ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 509

اگر شرط کی رعایت کرے تو بچ رہے۔ورنہ مَر جاوے۔پھر بچ جانے کی صورت میں مومن کو چاہیے تھا کہ وہ اس اَمر کو تنقیح طلب قرار دیتا کہ آیا اس نے رعایت کی یا نہیں؟ یاد رکھو یہاں تو صریح اور صاف شرط موجود تھی کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے لیکن بعض انذاری پیش گوئیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ بظاہر ان میں کوئی شرط نہیں ہوتی اور حقیقت میں وہ مشروط ہوتی ہیں۔یونس نبی کا قصہ صاف موجود ہے۔تفسیروں میں دیکھ لو کیا لکھا ہوا ہے؟ باوصفیکہ ایک ایسی نظیر قرآن شریف اور تمام کتب سابقہ میں موجود ہے لیکن ہمارے معاملہ میں اسی بدظنی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ایک مقررہ قانون کی بھی پروا نہیں کرتے حالانکہ اس میں صریح شرط موجود ہے۔اور اس کا زندہ رہنا اور بچ جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے اس شرط سے فائدہ اٹھایا مگر اس شرط سے فائدہ اٹھانے کے ہمارے پاس تو اس سے بھی بڑھ کر دلائل ہیں جو ایک موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ہماری طرف سے متواتر اشتہار پر اشتہار جاری ہوئے اور اس کو دعوت کی گئی کہ تم قسم کھاؤ اور اگر جھوٹی قسم کی پاداش میں ایک سال کے اندر ہلاک نہ ہو جاؤ تو میں اپنے آپ کو جھوٹا قرار دوں گا۔اور اس قسم کے لئے چار ہزار روپے تک انعام بھی دینا چاہا اور یہ بھی ثابت کر کے دکھلا دیا کہ بائیبل سے ایسی قسم کا کھانا گناہ نہیں بلکہ انکار کرنا گناہ ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر نالش کرو۔پادریوں نے بھی اس کو اکسایا اور ترغیب دی کہ تم نالش کرو لیکن اس قدر کوششوں پر بھی وہ میدان میں نہ آیا اور اپنی خاموشی اور اسلام پر نکتہ چینی اور اس کے خلاف تحریروں کی اشاعت سے رک کر اس نے بتلا دیا کہ حقیقت میں پیش گوئی کے موافق اس نے شرط سے فائدہ اٹھایا۔پیش گوئی میں شرط کا موجود ہونا خود ایک پیش گوئی ہے۔اگر اس نے شرط سے فائدہ نہیں اٹھانا تھا تو اس کو مشروط کرنے کے معنی ہی کیا ہوئے۔اب ایک متدیّن اور خدا ترس کو چاہیے کہ سوچے کہ آیا آتھم نے رجوع الی الحق کی شرط سے فائدہ اٹھایا ہے یا نہیں اور قسم کھانا اگر خلاف شرع تھا تو کلارک اور پریم داس وغیرہ عیسائیوں نے قسم کھائی تھی