ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 506

ہوتا ہے کہ کم از کم اپنے عمل سے بھی ان باتوں کو کرکے دکھاوے جو وہ کہتا ہے۔بہر حال اگر ایک آدمی اپنی ہی غرض و منشا کے لئے کوئی بھلی بات کہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے اس لئے اعراض کیا جاوے کہ وہ اپنی کسی ذاتی غرض کی بنا پر کہہ رہا ہے۔وہ بات جو کہتا ہے وہ تو بجائے خود ایک عمدہ بات ہے۔نیک دل انسان کو لازم ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے جو وہ کہہ رہا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ان اغراض و مقاصد پر بحث کرتا رہے جن کو ملحوظ رکھ کر وعظ کہہ رہا ہے۔سعدی نے کیا خوب کہا ہے۔مرد باید کہ گیرد اندر گوش گر نوشت است پند بر دیوار # قائل کی بجائے قول کی طرف دیکھو یہ بالکل سچی بات ہے کہ قول کی طرف دیکھو۔قائل کی طرف مت خیال کرو۔اس طرح پر انسان سچائی کے لینے سے محروم رہ سکتا ہے اور اندر ہی اندر ایک عجب و نخوت کا بیج پرورش پا جاتا ہے کیونکہ یہ اگر صرف سچائی اور صداقت کا طالب ہے تو پھر دوسروں کی عیب شماری سے اس کو کیا غرض۔واعظ اپنے لئے کوئی ایک بات نکال لے مگر تم کو اس سے کیا غرض۔تمہارا مقصود اصلی تو طلب حق ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ بے موقع، بے محل، بے ربط بات شروع کر دیتے ہیں اور پندونصیحت کرتے وقت امور مقتضائے وقت کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ان امراض کا لحاظ رکھتے ہیں جن میں مخاطب مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اپنے سوال کو ہی مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز بیان کو اگر غور سے دیکھتے تو ان کو وعظ کہنے کا بھی ڈھنگ آجاتا۔ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سب سے بہتر نیکی کون سی ہے۔آپ اس کو جواب دیتے ہیں کہ سخاوت۔دوسرا آکر یہی سوال کرتا ہے تو اس کو جواب ملتا ہے۔ماں باپ کی خدمت۔تیسرا آتا ہے۔اس کو جواب کچھ اور ملتا ہے۔سوال ایک ہی ہوتا ہے۔جواب مختلف۔