ملفوظات (جلد 1) — Page 501
میں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لیے وقف کردی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لیے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کرکے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں۔یاد رکھو یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے بلکہ بے قیاس نفع کا سودا ہے۔کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاد اور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لیے اس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے؟ ہرگز نہیں فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (البقرۃ:۱۱۳) اس للّٰہی وقف کا اجر ان کا رب دینے والا ہے۔یہ وقف ہر قسم کے ہموم و غموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے۔مجھے تو تعجب ہوتا ہے کہ جبکہ ہر ایک انسان بالطبع راحت اور آسائش چاہتا ہے اور ہموم و غموم اور کرب و افکار سے خواستگار نجات ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ جب اس کو ایک مجرب نسخہ اس مرض کا پیش کیا جاوے تو اس پر توجہ ہی نہ کرے۔کیا للّٰہی وقف کا نسخہ ۱۳۰۰ برس سے مجرب ثابت نہیں ہوا؟ کیا صحابہ کرامؓ اسی وقف کی وجہ سے حیات طیبہ کے وارث اور ابدی زندگی کے مستحق نہیں ٹھیرے؟ پھر اب کون سی وجہ ہے کہ اس نسخہ کی تاثیر سے فائدہ اٹھانے میں دریغ کیا جا وے۔بات یہی ہے کہ لوگ اس حقیقت سے ناآشنا اور اس لذت سے جو اس وقف کے بعد ملتی ہے ناواقف محض ہیں ورنہ اگر ایک شمہ بھی اس لذّت اور سرور سے ان کو مل جاوے تو بے انتہا تمناؤں کے ساتھ وہ اس میدان میں آئیں۔اپنا ذاتی تجربہ اور وصیّت میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذّت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لیے اگر مَر کے پھر زندہ ہوں