ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 500

جب تک اسی عارضی حیات دنیا کی سوزش اور جلن دور ہو کر ایمان میں ایک لذّت اور روح میں ایک سکینت اور استراحت پیدا نہ ہو۔یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان اس حالت تک نہ پہنچے ایمان کامل اور ٹھیک نہیں ہوتا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ تو عبادت کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پردے دور ہو کر یہ سمجھ میں آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیا ملک، نئی زمین، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں۔یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔یہی وہ راز تھا جس پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مُردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابوبکرؓ کو دیکھے۔اور ابو بکرؓ کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ایمان ایک راز ہے یاد رکھو۔ایمان ایک راز ہوتا ہے جو مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہے اور جس کو مخلوق میں سے اس مومن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا اَ نَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ کی حقیقت یہی ہے۔بعض اوقات وہ لوگ جو علومِ حقّہ اور معارف الٰہیہ سے بہرہ ور نہیں ہوتے کسی مومن کے ان تعلقات کے عدم علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو ہوتے ہیں اس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق و معاش پر حیرت اور تعجب ظاہر کرتے ہیں اور کبھی یہ تعجب ان کو بدظنی اور گمراہی تک لے جاتا ہے اس لیے کہ ان کی نظر اپنے ہی محدود اسباب تک ہوتی ہے اور وہ اس راز اور سِرّ سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہے ناواقف ہوتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے اس راز کو ایسا بنائیں جو صحابہ کرامؓ کا تھا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کریں غرض یہ ہے کہ انسان کو ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف کرے۔