ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 496

لانظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان لکھا ہے کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تھے اور ابھی مکہ میں نہ پہنچے تھے کہ راستہ میں ہی ایک شخص ملا۔اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔اس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تمہارے دوست نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ابوبکرؓ نے وہیں کھڑے ہوکر کہا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو سچا ہے چنانچہ جب مکہ میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ نے واقعی پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔اُسی وقت مشرف باسلام ہوگئے۔۱۱۴؎ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قبول اسلام کے لیے کسی اعجاز کی ضرورت نہ پڑی۔اعجاز بینی کے خواہش مند وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو تعارفِ ذاتی نہیں ہوتا لیکن جس کو تعارفِ ذاتی ہوجاوے اُسے اعجاز کی ضرورت اور خواہش ہوتی ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے معجزہ نہیں مانگا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے خوب واقف تھے اور خوب جانتے تھے کہ وہ راستباز اور امین ہے جھوٹا اور مفتری نہیں جب کہ کسی انسان پر کبھی افترا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے کی کبھی جرأت نہیں کرسکتا۔پس یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نشان صرف اس لیے مانگا جاتا ہے کہ اس بات کے امکان کا اندیشہ گزرتا ہو کہ شاید جھوٹ ہی بولا ہو مگر جب یہ بات اچھی طرح پر معلوم ہو کہ مدعی صادق اور امین ہے پھر نشان بینی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔یہ بھی یاد رہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں۔ایسے لوگ راسخ الایمان نہیں ہوسکتے بلکہ ہر وقت خطرہ کے محل میں رہتے ہیں۔ایمان بالغیب کے ثمرات اُن کو نہیں ملتے کیونکہ ایمان بالغیب کے اندر ایک فعل نیکی کا حُسن ظن بھی ہے۔جس سے وہ جلد باز بے نصیب رہ جاتا ہے جو نشان دیکھنے کے لئے جلدی کرتا اور زور دیتا ہے۔مسیح علیہ السلام کے حواریوں نے نزول مائدہ کے لئے زور دیا تو خدا تعالیٰ نے ان کو زجر