ملفوظات (جلد 1) — Page 497
بھی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم تو مائدہ نازل کریں گے لیکن بعد نزول مائدہ جو انکار کرے گا اس پر سخت عذاب نازل ہوگا۔قرآن شریف میں اس قصہ کے ذکر سے یہ فائدہ ہے کہ تا بتلایا جاوے کہ بہترین ایمان کون سا ہے۔اور اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات یوں تو اجلٰی بدیہیات سے ہوتے ہیں لیکن اُن کے ساتھ ایک طرف اتمام حجت منظور ہوتا ہے اور دوسری طرف ابتلائے اُمت۔اس لیے بعض اُمور اُن میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ ایک ابتلا رکھتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ نشان مانگنے والے لوگ مستعجل اور حسن ظن سے حصہ نہ رکھنے والے ہوتے ہیں اور اُن کی طبیعت میں ایک احتمال اور شک پیدا کرنے کا مادہ ہوتا ہے تب ہی تو وہ نشان مانگتے ہیں۔اس لیے جب نشان دیکھتے ہیں تو پھر بے ہودہ طور پر اس کی تاویلیں کرنی شروع کردیتے ہیں اور اس کو کبھی سحر کہتے ہیں، کبھی کچھ نام رکھتے ہیں۔غرض وہ وہم پیدا کرنے والی طبیعت اُن کو اَمر حق سے دُور لے جاتی ہے۔اس لیے مَیں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم وہ ایمان پیدا کرو جو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابہ کا ایمان تھا۔رضی اللہ عنہم کیونکہ اس میں حُسنِ ظن اور صبر ہے اور وہ بہت سے برکات اور ثمرات کا منتج ہے اور نشان دیکھ کر ماننا اور ایمان لانا اپنے ایمان کو مشروط بنانا ہے۔یہ کمزور ہوتا ہے اور عموماً باروَر نہیں ہوتا۔ہاں جب انسان حُسنِ ظن کے ساتھ ایمان لاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے مومن کو وہ نشان دکھاتا ہے جو اُس کے ازدیادِ ایمان کا موجب اور انشراح صدر کا باعث ہوتے ہیں۔خود اُن کو نشان اور آیت اللہ بنا دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقتراحی نشان کسی نبی نے نہیں دکھلائے۔مومن صادق کو چاہیے کہ کبھی اپنے ایمان کونشان بینی پر مبنی نہ کرے۔انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت مَیں پھر اصل بات کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ دولت مند اور متموّل لوگ دین کی خدمت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) متّقیوں کی صفت کا ایک جزو قرار دیا ہے۔یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور معاون بنے۔اللہ تعالیٰ کی