ملفوظات (جلد 1) — Page 490
نہیں ہے۔ایک ثقہ آدمی لکھتا ہے کہ مَیں نے گوشت کھایا ہے جو میری پیدائش سے ۳۰ برس پہلے کا پکا ہوا تھا۔ہوا نکال کر بند کرلیا گیا تھا۔اب ولایت یورپ اور امریکہ سے ہر روز ہزاروں، لاکھوں بوتلوں میں لَمْ یَتَسَنَّہ کھانے پکے پکائے چلے آتے ہیں۔لَمْ یَتَسَنَّہ کا اثر تو ہندوؤں کے جوگ پر پڑتا ہے اور آج کل کی علمی بلند پروازیوں کی حقیقت کھولتا ہے کہ قرآن کریم میں پہلے سے درج ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسے ہوا کے ایک خاص اثر سے کھانا مَر جاتا ہے اسی طرح انسان پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے اب اگر خاص ترکیب سے کھانے کو اس ہوا کے اثر سے محفوظ رکھ کر زندہ رکھا جاتا ہے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانہ میں یہ حقیقت بھی کُھل جائے کہ انسان پر کھانے کی طرح عمل ہوسکتا ہے۔یہ علوم ہیں۔اُن کے ماننے سے کوئی حَرج لازم نہیں آتا۔آج کل کی تحقیقات اور علمی تجربوں نے ایسے موزے بنالیے ہیں کہ انسان اُن کو پہن کر دریا پر چل سکتا ہے اور ایسے کوٹ ایجاد ہوگئے ہیں کہ آگ یا بندوق کی گولی اُن پر اپنا اثر نہیں کرسکتی۔اسی طرح سے لَمْ یَتَسَنَّہ کی حقیقت جو قرآن کریم کے اندر مرکوز ہے علمی طور پر بھی ثابت ہوجاوے تو کیا تعجب ہے؟ ہوا کا اثر کھانے کو تباہ کرتا ہے اور انسان کے لئے بھی ہوا کا بڑا تعلق ہے۔ہوا کے دو حصے ہیں ایک قسم کی ہوا اندر جاتی ہے تو اندر تازگی پیدا ہوتی ہے۔دوسری دم کے ساتھ باہر آتی ہے جو جلی ہوئی متعفن ہوا ہوتی ہے۔غرض اگر لَمْ یَتَسَنَّہ والی بات نکل آوے تو ہمارا تو کچھ بھی حرج نہیں بلکہ جس قدر علوم طبعی پھیلتے جاتے ہیں اور پھیلیں گے اسی قدر قرآن کریم کی عظمت اور خوبی ظاہر ہوگی۔ہم تو آئے دن دیکھتے ہیں کہ ولایت کے پکے ہوئے شوربے اور گوشت ہندوستان میں آتے ہیں اور بگڑتے نہیں۔ولایتی ادویات ہزاروں میل سے آتی ہیں اور مہینوں برسوں پڑی رہتی ہیں خراب نہیں ہوتی ہیں۔مجھے ایک شخص نے بتلایا کہ اگر انڈے کو سرسوں کے تیل میں رکھ چھوڑیں تو نہیں بگڑتا۔اس طرح پر ممکن ہے کہ انسان کے شباب اور طاقتوں پر بھی اثر پڑے۔بعض مسلمانوں نے بھی