ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 491 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 491

دم سادھنے کی کوشش کی ہے۔خود میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مَیں دن میں دو بار سانس لیتا ہوں۔یہ عملی شہادت ہے کہ ہوا کو سڑنے میں دخل ہے۔اس قسم کی ہوا سے جب بچایا جاوے تو انسان کی عمر بڑھ جاوے تو حرج کیا ہے اور عمر کا بڑھنا مان لیں تو کیا حرج ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر حکمتیں ایجاد ہوتی ہیں یا تو طبعی طور پر خدا نے قاعدہ رکھا ہوا ہے یا عناصر کے نظام میں بات رکھی ہوتی ہے۔کوئی محقق دیکھ کر بات نکال لیتا ہے۔ہم کو اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔ہمارا تو مذہب یہ ہے کہ علومِ طبعی جس قدر ترقی کریں گے اور عملی رنگ اختیار کریں گے۔قرآن کریم کی عظمت دنیا میں قائم ہوگی۔۱۱۱؎ ۱۷؍ اگست ۱۹۰۰ء مولانا عبدالکریم ؓ کا خطبہ اور حضرت اقدسؑ کی تعریف مولانا عبدالکریم ؓ صاحب نے جو خطبہ ۱۷؍اگست۱۹۰۰ء کو پڑھا۔حضرت اقدس ؑ نے اُس کی تعریف فرمائی۔مولانا نے دوبارہ اس خطبہ کو اپنے قلم سے لکھا ہے اور کہا کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میری یہ دل کی باتیں قبول کا شرف پائیں گی۔کل صُبح کی اذان سے قبل مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے داہنے کان کے ساتھ بہت سے ٹیلیفون لگے ہیں۔اور مختلف شہروں سے مختلف دوستوں کی طرف سے آوازیں آرہی ہیں کہ ’’جو کچھ آپ ہمارے مسیح موعود ؑ کی نسبت کہتے ہیں۔ہم اُس کو خوب سمجھتے ہیں۔‘‘ مجھے خیال پڑتا ہے کہ کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں۔‘‘ تحدیث بالنعمت کے طور پر مَیں یہ بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعد نماز جمعہ حضرت اقدس ؑ سے کچھ عرض کرنے کے لئے اندر گیا۔بعد اِدھر اُدھر کے ذکر کے مَیں نے خطبہ کی نسبت حضور ؑ سے پوچھا۔فرمایا۔یہ بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔