ملفوظات (جلد 1) — Page 488
غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (النسآء:۸۳) اور عدم اختلاف اس کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھیرائی گئی ہے، لیکن یہ ناعاقبت اندیش قصص اور ہدایات میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف پیدا کر کے اس کو مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ ٹھہراتے ہیں۔افسوس ان کی دانش پر!!! ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ مقدم ہدایات ہیں یا قصص؟ اور اگر دونوں میں تناقض پیدا ہو تو مقدم کس کو رکھو گے؟ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جو مَر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے اور ترمذی میں حدیث موجود ہے کہ ایک صحابی شہید ہوئے۔انہوں نے عرض کی کہ یا الٰہی! مجھے دنیا میں پھر بھیجو تو خدا تعالیٰ نے جواب یہی دیا قَدْ سَبَقَ الْقَوْلُ مِنِّیْ (الحدیث) حَرٰمٌ عَلٰى قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (الانبیاء:۹۶) اب قرآن کریم موجود ہے۔اس کی شرح حدیث شریف میں صاف الفاظ میں موجود ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک خیالی اور فرضی کہانی کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ ہم پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا چاہتے ہو۔ہم قرآن اور حدیث پیش کرتے ہیں۔پھر عقل سلیم اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے۔ہماری طرف سے خود ساختہ بات ہوتی تو تم قصہ پیش کر دیتے مگر یہاں تو ہدایت اور اس کی تائید میں حدیث پیش کی جاتی ہے۔اس کے بعد اور کیا چاہیے فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ (یونس:۳۳) قصوں کے حقائق بتانے خدا تعالیٰ کو ضرور نہیں ان پر ایمان لاؤ اور ان کی تفاسیر حوالہ بخدا کرو۔صوم کے لئے تو اعرابی بھی پوچھتے تھے، ہر آیت میں حق ظاہر ہوتا ہے۔قصوں میں یہ بات ضرور نہیں۔مثلاً اب یہ ضرور نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مخالف بت پرستوں کے بتوں کا حلیہ بھی بتایا جاوے۔اس قسم کے خیالات سوء ادبی پر مبنی ہوتے ہیں۔غرض یاد رکھو کہ قصص قرآنی میں بیہودہ چھیڑ چھاڑ درست نہیں ہے۔انسان پابند ہدایت نہیں ہو سکتا جب تک کہ تصریح نہ ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہدایتوں کو آسان کر دیا ہے۔اسی طرز پر اللہ تعالیٰ نے یہ صراحت کی ہے کہ مُردے واپس نہیں آتے۔