ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 487

زندہ اسی جسم سمیت اور اسی لباس میں آسمان پر اٹھائے گئے اور پھر یہ بھی تو نہیں بتلاتے کہ وہ آسمان پر بیٹھے کرتے کیا ہیں؟ بہشت میں نجاری کا کام ہی کرتے اور بہشتیوں کے لئے تخت بناتے۔خیر ہم کو اس سے بحث نہیں ہے مگر جو نقشہ پیش کرتے ہیں اس کو عزیر کے قصہ سے کیا تعلق اور نسبت ہے؟ غرض اس سلسلہ میں یعنی مسیح کے قصہ میں عزیر کا قصہ داخل کرنا خلط مبحث ہے۔ہمارا یہ مذہب ہے کہ عزیر کے قصہ کو مسیح کے آنے نہ آنے سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ہاں اگر رنگ سوال اَور ہو تو اَور بات ہے۔یعنی عزیر کیونکر زندہ ہوا؟ ہم اس قسم کی حیات کے منکر ہیں اور سارا قرآن اول سے آخر تک منکر ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو تجویز بندوں کے لئے رکھی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں وغیرہ پر ایمان رکھ کر خاتمہ اس طرح پر ہوتا ہے کہ فرشتہ ملک الموت آکر قبض روح کر لیتا ہے اور پھر اور واقعات پیش آتے ہیں۔منکر نکیر آتے ہیں۔اعمال آتے ہیں پھر کھڑکی نکالی جاتی ہے۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ موتٰی قیامت ہی کو اٹھیں گے یَبْعَثُ اللّٰہُ الْمَوْتٰی۔معالم میں لکھا ہے کہ رجوع موتٰی نہیں ہوتا۔ایک اہم نکتہ قرآن کریم کے دو حصے ہیں کوئی بات قصہ کے رنگ میں ہوتی ہے اور بعض احکام ہدایت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔بحیثیت ہدایت جو پیش کرتا ہے اس کا منشا ہے کہ مان لو جیسے اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرۃ:۱۸۵) اب صوم شتر مرغ کی بیٹ کو کہتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں احکام میں صفائی ہوتی ہے جبکہ اسی ہدایت کے سلسلہ میں یہ فرمایا کہ ملک الموت آتا ہے اور پھر رفع ہوتا ہے اور حدیث میں اس کی تائید آئی ہے۔ایک جگہ فرمایا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزّمر:۴۳) یعنی جس نفس پر موت کو حکم دے دیتا ہے اس کو واپس نہیں آنے دیتا۔دیکھو! یہ خدا کا کلام ہے۔قصہ کے رنگ میں نہیں بلکہ ہدایت کے رنگ میں ہے۔جو لوگ قصص اور ہدایات میں تمیز نہیں کرتے ان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قرآن کریم میں اختلاف ثابت کرنے کے موجب ہوتے ہیں اور گویا اپنی عملی صورت میں قرآن کریم کو ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں کیونکہ قرآن شریف کی نسبت تو خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ