ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 485

سکون وراحت۔اب اس تاریکی اور ہلاکت کے زمانہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں آپؐ نے آکر کیسے کامل طور پر اس میزان کے دونوں پہلو درست فرمائے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اپنے اصلی مرکز پر قائم کر دکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی طاقت کا کمال اس وقت ذہن میں آسکتا ہے جبکہ اُس زمانہ کی حالت پر نگاہ کی جاوے۔مخالفوں نے آپؐ کو اور آپؐ کے متبعین کو جس قدر تکالیف پہنچائیں اور اس کے بالمقابل آپؐ نے ایسی حالت میں جب کہ آپؐ کو پورا اقتدار اور اختیار حاصل تھا ان سے جو کچھ سلوک کیا وہ آپؐ کی علوِّ شان کو ظاہر کرتا ہے۔ابوجہل اور اس کے دُوسرے رفیقوں نے کون سی تکلیف تھی جو آپؐ کو اور آپؐ کے جاں نثار خادموں کو نہیں دی۔غریب مسلمان عورتوں کو اُونٹوں سے باندھ کر مخالف جہات میں دوڑایا اور وہ چیری جاتی تھیں۔محض اس گُناہ پر کہ وہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پر کیوں قائل ہوئیں۔مگر آپؐ نے اس کے مقابل صبر و برداشت سے کام لیا۔اور جبکہ مکہ فتح ہوا تو لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف:۹۳) کہہ کر معاف فرمایا۔یہ کس قدر اخلاقی کمال ہے جو کسی دُوسرے نبی میں نہیں پایا جاتا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ۔غرض بات یہ ہے کہ اخلاقِ فاضلہ حاصل کرو کہ نیکیوں کی کلید اخلاق ہی ہیں۔۱۱۰؎ ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۰ء دو لطیف شعر ہر کہ روشن شُد دل و جان و درُوں از حضرتش کیمیا باشد بسر برون دمے در صحبتش # چیست دنیا چوں شبِ تار و زماں ابر سیاہ آفتابی رہنما یک ساعتی در خدمتش #