ملفوظات (جلد 1) — Page 482
خیر کا پہلا درجہ جہاں سے انسان قوت پاتا ہے اخلاق ہے۔دو لفظ ہیں۔ایک خَلق دوسرا خُلق۔خَلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خُلق باطنی پیدائش کا۔جیسے ظاہر میں کوئی خوب صورت ہوتا ہے اور کوئی بہت ہی بدصورت۔اسی طرح پر کوئی اندرونی پیدائش میں نہایت حسین اور دلربا ہوتا ہے اور کوئی اندر سے مجذوم اور مبروص کی طرح مکروہ۔لیکن ظاہری صورت چونکہ نظر آتی ہے اس لیے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ بدصورت اور بدوضع ہو مگر چونکہ اس کو دیکھتا ہے اس لیے اُس کو پسند کرتا ہے اور خُلق کو چونکہ دیکھا نہیں اس لیے اُس کی خوبی سے ناآشنا ہوکر اُس کو نہیں چاہتا۔ایک اندھے کے لئے خوبصورتی اور بدصورتی دونوں ایک ہی ہیں۔اسی طرح پر وہ انسان جس کی نظر اندرونہ تک نہیں پہنچتی اس اندھے کی ہی مانند ہے۔خَلق تو ایک بدیہی بات ہے۔مگر خُلق ایک نظری مسئلہ ہے۔اگر اخلاقی بدیاں اور ان کی لعنت معلوم ہو تو حقیقت کھلے۔غرض اخلاقی خوبصورتی ایک ایسی خوبصورتی ہے جس کو حقیقی خوبصورتی کہنا چاہیے۔بہت تھوڑے ہیں جو اس کو پہچانتے ہیں۔اخلاق نیکیوں کی کلید ہے۔جیسے باغ کے دروازہ پر قفل ہو۔دُور سے پھل پھول نظر آتے ہیں مگر اندر نہیں جاسکتے۔لیکن اگر قفل کھول دیا جائے تو اندر جاکر پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے اور دل و دماغ میں ایک سرور اور تازگی آتی ہے۔اخلاق کا حاصل کرنا گویا اس قفل کو کھول کے اندر داخل ہونا ہے۔ترکِ اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے کسی کو اخلاق کی کوئی قوت نہیں دی گئی مگر اس کو بہت سی نیکیوں کی توفیق ملی۔ترکِ اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔ایک شخص جو مثلاً زنا کرتا ہے اُس کو خبر نہیں کہ اُس عورت کے خاوند کو کس قدر صدمہ عظیم پہنچتا ہے۔اب اگر یہ اُس تکلیف اور صدمہ کو محسوس کرسکتا اور اس کو اخلاقی حصہ حاصل ہوتا تو ایسے فعلِ شنیع کا مُرتکب نہ ہوتا۔اگر ایسے نابکار انسان کو یہ معلوم ہوجاتا کہ اس فعلِ بد کے ارتکاب سے نوعِ انسان کے لئے کیسے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں تو ہٹ جاتا۔ایک شخص جو چوری کرتا ہے کم بخت ظالِم اتنا بھی تو نہیں کرتا کہ رات کے کھانے کے واسطے ہی چھوڑ جائے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک غریب کی