ملفوظات (جلد 1) — Page 471
بتلاؤ کیا پایا؟ مُردوں کو پُوجتے پُوجتے خود مُردہ ہوگئے۔نہ مذہب میں زندگی کی رُوح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔اول سے لے کر آخر تک مُردوں ہی کا مجمع ہوگیا۔اسلام کا حیّ وقیوم خدا اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خدا حیّ و قیوم خدا ہے۔پھر وہ مُردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔وہ حیّ و قیوم خدا تو بار بار مُردوں کو جلاتا ہے۔يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید:۱۸) تو کیا مُردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حیّ وقیوم خدا نے اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) کہہ کر اُٹھایا ہو اہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مُردوں کو جِلاتا ہے۔یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔قرآن کریم کی تفصیل پھر فرمایا ثُمَّ فُصِّلَتْ (ھود :۲) ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے۔دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ہر زمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔فلسفی اپنے رنگ میں، طبیب اپنے مذاق پر، صوفی اپنے طرز پر بیان کرتے ہیں اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم و خبیر خدا نے رکھی ہے۔حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہو اور پھر عمل بھی کامل ہو۔ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے۔حکمت کے معنی وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہٖ اور خبیر مبالغہ کا صیغہ ہے۔یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر یہ تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہئیں چنانچہ اسی کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجدّد و مصلح احیاءِ دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصّل آتے ہیں۔قرآن کریم کا خلاصہ اور مغز اس کے بعد ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ (ہود:۳) خدا تعالیٰ کے سوا ہرگز ہرگز کسی کی پرستش نہ