ملفوظات (جلد 1) — Page 458
مفصل لکھوں گا اس لیے اب میں چند عربی فقرے کہہ کر فرض ادا کرتا ہوں۔۱۰۵؎ خطبہ الہامیہ کا نشان یہ خطبہ جو اللہ تعالیٰ کے القا وایما کے موافق حضور نے عربی زبان میں پڑھا۔یہ خطبہ آیات اللہ میں سے ایک زبر دست آیت اور لا نظیر نشان ہے جو ایک عظیم الشان گروہ کے سامنے پورا ہوا اور ’’خطبہ الہامیہ‘‘ کے نام سے شائع فرما دیا گیا۔جب حضرت اقدسؑ عربی خطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حکم دیا کہ وہ قریب تر ہوکر اس خطبہ کو لکھیں۔جب حضرات مولوی صاحبان تیار ہوگئے تو حضورؑ نے یَاعِبَادَاللّٰہِ کے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔اِثناءِ خطبہ میں حضرت اقدس ؑ نے یہ بھی فرمایا کہ اب لکھ لو پھر یہ لفظ جاتے ہیں۔جب حضرت اقدس ؑ خطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے تو اکثر احباب کی درخواست پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اُس کا ترجمہ سُنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔اس سے پیشتر کہ مولانا موصوف ترجمہ سنائیں حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ اس خطبہ کو کل عَرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو مَیں نے دعائیں کی ہیں ان کی قبولیت کے لئے نشان رکھا گیا تھا کہ اگر مَیں یہ خطبہ عربی زبان میں اِرتجالاً پڑھ گیا تو وہ ساری دعائیں قبول سمجھی جائیں گی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہ وہ ساری دعائیں بھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قبول ہوگئیں۔سجدۂ شکر اور اس کی قبولیّت ابھی مولانا عبدالکریم صاحب ترجمہ سُنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس ؑ فرطِ جوش کے ساتھ سجدۂ شکر میں جا پڑے۔حضورؑ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکرادا کیا۔سجدہ سے سر اُٹھا کر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔ابھی مَیں نے سُرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ ’’مبارک‘‘ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔۱۰۶؎