ملفوظات (جلد 1) — Page 37
کے ساتھ مقابلہ کر لیا جاوے آپؐ کی تعلیم، تزکیہ نفس، پیروؤں کو دنیا سے متنفر کرادینا، شجاعت کے ساتھ صداقت کے لئے خون بہا دینا اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔سو یہ مقام حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کا ہے ان میں جو آپس میں تالیف و محبت تھی اس کا نقشہ دو فقروں میں بیان کیا ہے وَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ (الانفال:۶۴) یعنی جو تالیف ان میں ہے وہ ہرگز پیدا نہ ہوتی خواہ سونے کا پہاڑ بھی دیا جاتا۔اب ایک اور جماعت مسیح موعود کی ہے جس نے اپنے اندر صحابہؓ کا رنگ پیدا کرنا ہے۔صحابہؓ کی تو وہ پاک جماعت تھی جس کی تعریف میں قرآن بھرا پڑا ہے۔کیا آپ لوگ ایسے ہیں؟ جب خدا کہتا ہے کہ مسیحؑ کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے جو صحابہؓ کے دوش بدوش ہوں گے۔صحابہؓ تو وہ تھے جنہوں نے اپنا مال، اپنا وطن راہ حق میں دیا اور سب کچھ چھوڑا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہوگا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہوا تو کُل گھر کا اثاثہ لے آئے۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے؟ تو فرمایا کہ خدا اور رسول کو گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔رئیس مکہ ہو اور کمبل پوش ہو، غربا کا لباس پہنے۔سو یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہید ہوگئے۔ان کے لئے تو یہی لکھا ہے کہ سیفوں کے نیچے بہشت ہے لیکن ہمارے لیے تو اتنی سختی نہیں کیونکہ یَضَعُ الْحَرْبَ ہمارے لئے آیا ہے یعنی مہدی کے وقت لڑائی نہ ہوگی۔جہاد کی حقیقت اللہ تعالیٰ بعض مصالح کے رو سے ایک فعل کرتا ہے اور آئندہ جب وہ فعل معرض اعتراض ٹھہرتا ہے تو پھر وہ فعل نہیں کرتا۔اوّلاً ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی تلوار نہ اٹھائی مگر ان کو سخت سے سخت تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔تیرہ سال کا عرصہ ایک بچہ کو بالغ کرنے کے لیے کافی ہے اور مسیحؑ کی میعاد تو اگر اس میعاد میں سے دس نکال دیں تو بھی کافی ہوتی ہے۔غرض اس لمبے عرصہ میں کوئی یا کسی رنگ کی تکلیف نہ تھی جو اٹھانی نہ پڑی۔آخرکار وطن سے نکلے تو تعاقب ہوا دوسری جگہ پناہ لی تو دشمن نے وہاں بھی نہ چھوڑا۔جب یہ حالت ہوئی تو مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لیے حکم ہوا اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ