ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 36

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہؓ کا مقام جوصدق و صفا آپؐ نے یاآ پؐ کے صحابہ کرامؓ نے دکھایا اس کی نظیر کہیں نہیں۔جان دینے تک دریغ نہ کیا۔حضرت عیسٰیؑ کو کوئی مشکل کام نہ تھا اور نہ مفید ہی کوئی الہام تھا۔چند برادری کے لوگوں کو سمجھانا کون سا بڑا کام ہے۔یہودی تو توریت پڑھے ہی ہوئے تھے، ایمان لانے والے تھے، خدا کو وحدہٗ لاشریک جانتے ہی تھے تو بعض وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ مسیحؑ کرنے ہی کیا آئے تھے۔یہودیوں میں تو توحید کے لئے اب بھی غیرت پائی جاتی ہے۔نہایت کار یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید اخلاقی نقص تھے لیکن تعلیم تو توریت میں موجود ہی تھی۔باوجود اس سہولت کے کہ قوم اس کتاب کو مانتی تھی مسیحؑ نے وہ کتاب سبقاً سبقاً ایک استاد سے پڑھی تھی۔اس کے مقابل ہمارے سید و مولیٰ ہادی کامل اُمّی تھے۔ان کا کوئی استاد بھی نہ تھا اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ مخالف بھی اس امر سے انکار نہ کر سکے۔سو حضرت عیسٰیؑ کے لئے دو آسانیاں تھیں۔ایک تو برادری کے لوگ تھے جو بھاری بات منوانی تھی وہ پہلے ہی مان چکے تھے۔ہاں کچھ اخلاقی نقص تھے لیکن باوجود اتنی سہولت کے حواری درست نہ ہوئے۔لالچی رہے۔حضرت عیسیٰ اپنے پاس روپیہ رکھتے تھے۔بعض چوریاں بھی کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔لیکن ہم حیران ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں۔جب گھر بھی ہو اور مکان بھی ہو اور مال میں گنجائش اس قدر ہو کہ چوری کی جاوے تو پتہ بھی نہ لگے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔دکھانا یہ منظور ہے کہ باوجود ان تمام سہولتوں کے کوئی اصلاح نہ ہو سکی۔پطرس کو بہشت کی کنجیاں تو مل جاویں لیکن اپنے استاد کو لعنت دینے سے نہ رک سکے۔اب مقابلہ میں انصافاًد یکھا جاوے کہ ہمارے ہادی اکملؐ کے صحابہؓ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیاک یا جان نثاریاں کیں، جلاوطن ہوئے،ظ لم اٹھائے،طر ح طرح کے مصائب اٹھائے، جانیں دے دیں لیکن صدق وو فا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے۔پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جان نثار بنا دیا۔و ہ سچی الٰہی محبت کا جوش تھا جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی۔سو خواہ کسی نبی