ملفوظات (جلد 1) — Page 440
تو ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور جب گھر میں آتے ہیں تو کافر بتلاتے ہیں۔سنو اور یاد رکھو کہ خدا اس طرز عمل کو پسند نہیں فرماتا۔تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور محض خدا کے لئے رکھتے ہو۔نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کرو۔کوئی شخص صدیق نہیں ہو سکتا جب تک وہ یک رنگ نہ ہو۔جو منافقانہ چال چلتا ہے اور دورنگی اختیار کرتا ہے وہ آخر پکڑا جاتا ہے۔مثل مشہور ہے۔دروغ گورا حافظہ نباشد۔اس وقت میں ایک اور ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سلاطین کو اکثر مہمیں پیش آتی ہیں اور وہ بھی رعایا ہی کے بچاؤ اور حفاظت کے لئے ہوتی ہیں۔تم نے دیکھا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو سرحد پر کئی بار جنگ کرنا پڑی ہے گو سرحدی لوگ مسلمان ہیں مگر ہمارے نزدیک وہ حق پر نہیں ہیں۔ان کا انگریزوں کے ساتھ جنگ کرنا کسی مذہبی حیثیت اور پہلو سے درست نہیں ہے اور نہ وہ حقیقتاً مذہبی پہلو سے لڑتے ہیں۔کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ گورنمنٹ نے مسلمانوں کو آزادی نہیں دے رکھی؟ بے شک دے رکھی ہے اور ایسی آزادی دے رکھی ہے جس کی نظیر کابل اور نواح کابل میں رہ کر بھی نہیں مل سکتی۔امیر کے حالات اچھے سننے میں نہیں آتے۔ان سرحدی مجنونوں کے لڑنے کی کوئی وجہ بجز پیٹ کے نہیں ہے۔دس بیس روپے مل جاویں تو وہ غازی پن غرق ہو جاتا ہے۔یہ لوگ ظالم طبع ہیں جو اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔بادشاہ اور محسن کے حقوق اسلام بادشاہ وقت اور محسن کے حقوق قائم کرتا ہے۔یہ دنی ُّالطبع لوگ اپنے پیٹ کی خاطر حدود اللہ کو توڑتے ہیں اور ان کی رذالت اور سفاہت اور سفاکی کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک روٹی کے لئے باآسانی ایک انسان کا خون کر دیتے ہیں۔ایسا ہی آج کل ہماری گورنمنٹ کو ٹرانسوال کی ایک چھوٹی سی جمہوری سلطنت کے ساتھ مقابلہ ہے۔وہ سلطنت پنجاب سے بڑی نہیں ہے اور یہ سراسر اس کی حماقت ہے کہ اس قدر بڑی سلطنت کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے لیکن اس وقت جب کہ مقابلہ شروع ہو گیا ہے ہر ایک مسلمان کا حق ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کرے۔ہم کو ٹرانسوال سے کیا غرض؟ جس کے ہم پر ہزاروں احسان ہیں ہمارا فرض ہے کہ اس کی خیر خواہی کریں۔ایک ہمسایہ کے اتنے حقوق ہیں کہ