ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 433

اس نے زور سے بانگ دی۔تمام ہندو اکٹھے ہوگئے اور مُلّاں کو پکڑ لیا۔وہ بے چارہ بہت ڈرا اور گھبرایا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا۔سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔آخر سنگ دل چھری مار برہمن اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا کہ مہاراج! اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا۔کاردار تو جانتا تھا کہ سلطنت تبدیل ہوگئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی مگر ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں بانگ دی؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں میں نے بانگ دی۔کار دار نے کہا کہ کم بختو! کیوں شور ڈالتے ہو۔لاہور میں تو اب کھلے طور سے گائے ذبح ہوتی ہے۔تم ایک اذان کو روتے ہو۔جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو۔الغرض یہ واقعی اور سچی بات ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہے۔جس قوم نے ہم کو تحت الثریٰ سے نکالا ہے اس کا احسان ہم نہ مانیں یہ کس قدر ناشکری اور نمک حرامی ہے۔پریس کی سہولت اس کے علاوہ بڑی جہالت پھیلی ہوئی تھی۔ایک بڈھے کمّے شاہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے استاد کو دیکھا ہے کہ وہ بڑے تضرّع سے دعا کرتے تھے کہ صحیح بخاری کی ایک دفعہ زیارت ہو جائے اور بعض وقت اس خیال سے کہ کہاں ممکن ہے۔دعا کرتے کرتے اُن کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں۔اب وہی بخاری دو چار روپیہ میں امرتسر اور لاہور سے ملتی ہے۔ایک مولوی شیر محمد صاحب تھے۔کہیں دو چار ورق احیاء العلوم کے ان کو مل گئے۔کتنی مدت تک ہر نماز کے بعد نمازیوں کو بڑی خوشی اور فخر سے دکھایا کرتے تھے کہ یہ احیاء العلوم ہے اور تڑپتے تھے کہ پوری کتاب کہیں سے مل جائے۔اب جا بجا احیاء العلوم مطبوعہ موجود ہے۔غرض انگریزی قدم کی برکت سے لوگوں کی دینی آنکھ بھی کھل گئی ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اسی سلطنت کے ذریعہ دین کی کس قدر اعانت ہوئی ہے کہ کسی سلطنت میں ممکن ہی نہیں۔پریس کی برکت اور قسم قسم کے کاغذ کی ایجاد سے ہر قسم کی کتابیں تھوڑی تھوڑی قیمت پر میسر آسکتی ہیں اور پھر ڈاک خانہ کے طفیل سے کہیں سے کہیں گھر بیٹھے بٹھائے پہنچ جاتی ہیں اور یوں دین کی صداقتوں کی تبلیغ کی راہ کس قدر سہل اور صاف ہوگئی ہے۔