ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 432

ہوئے تنور سے نکالا۔سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اور انگریزوں کا قدم رحمت و برکت کا قدم ہے۔میں نے سنا ہے کہ جب اوّل ہی اوّل انگریز آئے تو ہوشیار پور میں کسی مؤذن نے اونچی اذان کہی چونکہ ابھی ابتدا تھی اور ہندوؤں اور سکھوں کا خیال تھا کہ یہ بھی اُونچی اذان کہنے پر روکیں گے یاان کی طرح اگر گائے کو کسی سے زخم لگ جاوے تو اس کا ہاتھ کاٹیں گے اس اونچی اذان کہنے والے مؤذن کو پکڑ لیا۔ایک بڑا ہجوم ہوگیا اور ڈپٹی کمشنر کے سامنے وہ لایا گیا۔بڑے بڑے رئیس مہاجن جمع ہوئے اور کہا حضور! ہمارے آٹے بھرشٹ ہوگئے۔ہمارے برتن ناپاک ہوگئے۔جب یہ باتیں اس انگریز کو سنائی گئیں تو اسے بڑا تعجب ہوا کہ کیا بانگ میں ایسی خاصیت ہے کہ کھانے کی چیزیں ناپاک ہو جاتی ہیں۔اس نے سررشتہ دار سے کہا کہ جب تک تجربہ نہ کر لیا جاوے اس مقدمہ کو نہ کرنا چاہیے چنانچہ اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ تو پھر اسی طرح بانگ دے وہ ڈرا کہ شاید دوسرا جرم نہ ہو مگر جب اس کو تسلی دی گئی اس نے اسی قدر زور سے بانگ دی۔صاحب بہادر نے کہا کہ ہم کو تو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔سررشتہ دار سے پوچھا کہ تم کو کوئی ضرر پہنچا۔اس نے بھی کہا کہ حقیقت میں کوئی ضرر نہیں۔آخر اس کو چھوڑ دیا گیا اور کہا گیا جاؤ جس طرح چاہو بانگ دو۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ! یہ کس قدر آزادی ہے اور کس قدر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔پھر ایسے احسان پر اور ایسے انعام صریح پر بھی اگر کوئی دل گورنمنٹ انگریزی کا احسان محسوس نہیں کرتا۔وہ دل بڑا کافرِ نعمت اور نمک حرام اور سینہ سے چیر کر نکال ڈالنے کے لائق ہے۔مذہبی آزادی خود ہمارے اس گاؤں میں جہاں ہماری مسجد ہے۔کارداروں کی جگہ تھی۔ہمارے بچپن کا زمانہ تھا لیکن میں نے معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ جب انگریزی دخل ہوگیا تو چند روز تک وہی قانون رہا۔ایک کاردار آیا ہوا تھا اس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا۔وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ بانگ دے۔اس نے وہی گنگنا کر اذان دی۔سپاہی نے کہا کہ کیا تم اسی طرح پر بانگ دیتے ہو؟ مؤذن نے کہا ہاں! اسی طرح دیتے ہیں۔سپاہی نے کہا کہ نہیں کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دے اور جس قدر زور سے ممکن ہے دے۔وہ ڈرا آخر