ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 431

پر کی ہیں، صاف معلوم ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی مکانات کی کیسی عزت کرتے ہیں۔پھر دیکھو کہ گورنمنٹ نے کہیں منادات نہیں کی کہ کوئی بآواز بلند بانگ نہ دے یا روزہ نہ رکھے بلکہ انھوں نے ہر قسم کی تغذیہ کے سامان مہیا کیے ہیں جس کا سکھوں کے ذلیل زمانہ میں نام و نشان تک نہ تھا۔برف، سوڈا واٹر اور بسکٹ، ڈبل روٹی وغیرہ ہر قسم کی غذائیں بہم پہنچائیں اور ہر قسم کی سہولت دی ہے۔یہ ایک ضمنی امداد ہے جو ان لوگوں سے ہمارے شعائر اسلام کو پہنچی ہے۔اب اگر کوئی خود روزہ نہ رکھے تو یہ اور بات ہے۔افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی توہین کرتے ہیں۔چنانچہ دیکھو! جنہوں نے ان دنوں روزے رکھے ہیں وہ کچھ دُبلے نہیں ہو گئے اور جنہوں نے استخفاف کے ساتھ اس مہینہ کو گزارا ہے وہ کچھ موٹے نہیں ہو گئے۔اِن کا بھی وقت گزر گیا اور اُن کا بھی زمانہ گزر گیا۔جاڑے کے روزے تھے۔صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی۔سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ بجے کھالی۔باوجود اس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اس واجب التکریم مہمان ماہِ رمضان کو بڑی حقارت سے دیکھا۔اس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع و عاصی میں فرق کرنے کے لیے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آسانی تھی۔سلطنت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے۔طرح طرح کے پھل اور غذائیں میسر آتی ہیں۔کوئی آسائش و آرام کا سامان نہیں جو آج مہیا نہ ہو سکتا ہو۔بایں ہمہ جو پروا نہیں کی گئی اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں خدا پر ایمان نہیں رہا۔افسوس خدا کا ایک ادنیٰ بھنگی کے برابر بھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔گویا یہ خیال ہے کہ خدا سے کبھی واسطہ ہی نہ ہوگا اور نہ اس سے کبھی پالا پڑے گا اور اس کی عدالت کے سامنے جانا ہی نہیں۔کاش منکر غور کریں اور سوچیں کہ کروڑوں سُورجوں کی روشنی سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔افسوس کی جگہ ہے کہ ایک جوتا کو دیکھ کر یقینی طور پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے مگر یہ کس قدر بدبختی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا مخلوق کو دیکھ کر بھی اس پر ایمان نہ ہو یا ایسا ایمان ہو جو نہ ہونے میں داخل ہے۔خدا تعالیٰ کی ہم پر بہت رحمتیں ہیں۔ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ اس نے ہم کو جلتے