ملفوظات (جلد 1) — Page 426
اور وہ دن سوگ کا دن ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتے۔بسا اوقات بعض نادان مختلف تدابیر سے لڑکیوں کو ہلاک کر دیتے یا اُن کی پرورش میں کم التفات کرتے ہیں اور اگر بچہ لُنجا، اندھا، اپاہج پیدا ہو تو چاہتے ہیں کہ وہ مَر جاوے اور اکثر دفعہ تعجب نہیں کہ خود بھی وبالِ جان سمجھ کر مار دیں۔میں نے پڑھا ہے کہ یونانی لوگ ایسے بچوں کو عمداً ہلاک کر دیتے تھے بلکہ اُن کے ہاں شاہی قانون تھا کہ اگر کوئی ناکارہ بچہ اپاہج، اندھا وغیرہ پیدا ہو تو اُس کو فوراً مار دیا جاوے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ انسانی خیالات پرورش اور خبر گیری کے ساتھ ذاتی اور نفسانی اغراض ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اس قدر مخلوق کی (جس کے تصور اور بیان سے وہم اور زبان قاصر ہے اور جو زمین اور آسمان میں بھری پڑی ہے) خَلق اور پرورش سے کوئی غرض ہرگز نہیں ہے۔وہ والدین کی طرح خدمت اور رزق نہیں چاہتا بلکہ اُس نے مخلوق کو محض ربوبیت کے تقاضے سے پیدا کیا ہے۔ہر ایک شخص مان لے گا کہ بوٹا لگانا پھر آب پاشی کرنا اور اس کی خبر گیری رکھنا اور ثمر دار درخت ہونے تک محفوظ رکھنا ایک بڑا احسان ہے۔پس انسان اور اُس کی حالت اور غور و پرداخت پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اس قدر انقلابات اور بے کسیوں کے تغیرات میں اس کی دستگیری فرمائی ہے۔دوسرا پہلو جو ابھی میں نے بیان کیا ہے کہ قبل از پیدائش وجود ایسے سامان ہوں کہ تمدنی زندگی اور قویٰ کے کام کے لیے پورا پورا سامان موجود ہو۔دیکھو! ہم ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ سامان پہلے ہی پیدا کر دیا۔منور سورج جو اب چڑھا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے عام روشنی پھیلی ہوئی ہے اور دن چڑھا ہوا ہے اگر نہ ہوتا تو کیا ہم دیکھ سکتے تھے یا روشنی کے ذریعہ جو فوائد اور منافع ہمیں پہنچ سکتے ہیں ہم کس ذریعہ سے حاصل کر سکتے؟ اگر سورج اور چاند یا اور کسی قسم کی روشنی نہ ہوتی تو بینائی بے کار ہوتی اگرچہ آنکھوں میں ایک قوت دیکھنے کی ہے مگر وہ بیرونی اور خارجی روشنی کے بدوں محض نکمی ہے۔پس یہ کس قدر احسان ہے کہ قویٰ سے کام لینے کے لیے اُن ضروری سامانوں کو پہلے سے مہیا کر دیا اور پھر یہ کس قدر رحمت ہے کہ ایسے قویٰ دیئے ہیں اور ان میں بالقوہ استعدادات رکھ دی ہیں جو انسان کی تکمیل اور وصول الی الغایۃ کے لیے از بس ضروری ہیں۔دماغ میں، اعصاب میں، عروق میں