ملفوظات (جلد 1) — Page 35
سلسلہ موسویہ و محمدیہ میں مماثلت قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسٰی قرار دے کر فرمایا اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزّمل :۱۶) یعنی ہم نے ایک رسول بھیجا جیسے موسٰی کو فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ہمارا رسول مثیل موسٰی ہے۔ایک اور جگہ فرمایا وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النّور:۵۶) اس مثیل موسیٰ کے خلفاء بھی اسی سلسلہ سے ہوں گے جیسے کہ موسیٰ کے خلفاء سلسلہ وار آئے۔اس سلسلہ کی میعاد چودہ سو برس تک رہی برابر خلفاء آتے رہے۔یہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی تھی کہ جس طرح سے پہلے سلسلہ کا آغاز ہوا ویسے ہی اس سلسلہ کا آغاز ہوگا۔یعنی جس طرح موسٰی نے ابتدا میں جلالی نشان دکھلائے اور فرعو ن سے چھڑایا، اس طرح آنے والا نبی بھی موسٰی کی طرح ہوگا۔فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَا۔ࣙالسَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ کَانَ وَعۡدُہٗ مَفۡعُوۡلًا (المزّمل:۱۹,۱۸) یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو بھیجا تھا سو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کفار عرب بھی فرعونیت سے بھرے ہوئے تھے۔وہ بھی فرعون کی طرح باز نہ آئے جب تک انہوں نے جلالی نشان نہ دیکھ لیا۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام موسیٰ ؑ کے کام کے سے تھے۔اس موسٰی کے کام قابل پذیرائی نہ تھے لیکن قرآن نے منوایا۔موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گو فرعون کے ہاتھ سے نجات (بنی) اسرائیل کو ملی لیکن گناہوں سے نجات نہ پائی۔وہ لڑے اور کج دل ہوئے اور موسیٰ پر حملہ آور ہوئے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری پوری نجات دی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر طاقت، شوکت، سلطنت اسلام کو نہ دیتے تو مسلمان مظلوم رہتے اور نجات کفار کے ہاتھ سے نہ پاتے۔سو اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ نجات دی کہ مستقل اسلامی سلطنت قائم ہو گئی۔دوسرا یہ کہ گناہوں سے ان کو نجات ملی۔خداوند تعالیٰ نے خود ہر دو نقشے کھینچے ہیں کہ عرب پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہوئے۔اگر دونو نقشے اکٹھے کئے جاویں تو ان کی پہلی حالت کا اندازہ لگ جاوے گا۔سو اللہ تعالیٰ نے دونو نجاتیں دیں۔شیطان سے بھی نجات دی اور طاغوت سے بھی۔