ملفوظات (جلد 1) — Page 415
قرآن شریف میں بھی صاف الفاظ میں فرمایا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات:۱۴) یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔کیا صدہا پیغمبر اُن میں نہیں آئے تھے؟ مگر اس پیغمبر زادگی نے ان کو کیا فائدہ پہنچایا اگر اُن کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ (البقرۃ:۶۲) کے مصداق کیوں ہوتے۔خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے۔بعض اوقات انسان کو تکبر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پا لوں گا جو بالکل خیالِ خام ہے۔کبیر کہتا ہے کہ اچھا ہوا۔ہم نے چماروں کے گھر جنم لیا۔کبیر اچھا ہوا ہم نیچے بھلے سب کو کریں سلام۔خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق کو پیار کرتا ہے اور اعمال صالحہ کو چاہتا ہے۔لاف و گزاف اسے راضی نہیں کر سکتے۔رفع کے معنی فرمایا۔قرآن شریف تو رفع اختلاف کے لئے آیا ہے۔اگر ہمارے مخالف رَافِعُكَ اِلَيَّ کے یہ معنی کرتے ہیں کہ مسیحؑ جسم سمیت آسمان پر چڑھ گیا تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی؟ اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا؟ ان کا اعتراض تو یہ تھا کہ مسیح کا رفع الی اللہ نہیں ہوا۔اگر رَافِعُكَ اِلَيَّ اس اعتراض کا جواب نہیں تو پھر چاہیے کہ اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جاوے۔مرکز میں رہائش کی غرض دین ہو ایک مرتبہ کسی دوست نے عرض کی کہ وہ تجارت کے لئے قادیان آنا چاہتا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔یہ نیت ہی فاسد ہے۔اس سے توبہ کرنی چاہیے۔یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہیے اور اصلاح عاقبت کے خیال سے یہاں رہنا چاہیے۔نیت تو یہی ہو اور اگر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہو تو حرج نہیں ہے۔اصل مقصد دین ہو نہ دنیا۔کیا تجارتوں کے لئے شہر موزوں نہیں۔یہاں آنے کی اصل غرض کبھی دین کے سوا اور نہ ہو۔پھر جو کچھ حاصل ہو جاوے وہ خدا کا فضل سمجھو۔ہمدردی خلائق میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں۔میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز