ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 411

اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کر دی کہ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا (الاحزاب:۱۴) فرمایا۔ہمارے دوستوں کو کس نے بتایا ہے کہ زندگی بڑی لمبی ہے۔موت کا کوئی وقت نہیں کہ کب سر پر ٹوٹ پڑے۔اس لیے مناسب ہے کہ جو وقت ملے اُسے غنیمت سمجھیں۔فرمایا۔یہ ایّام پھر نہ ملیں گے اور یہ کہانیاں رہ جائیں گی۔اپنے نفس پر قابو فرمایا۔میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔لوگوں کی تکالیف اور شرارتوں سے آپ کبھی مرعوب نہیں ہوئے۔اس بارہ میں فرمایا۔کوئی معاملہ زمین پر واقع نہیں ہوتا جب تک پہلے آسمان پر طے نہ ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے بندہ کو ذلیل اور ضائع نہیں کرے گا۔ابتلا کے وقت حضرت اقدسؑ کا حال جالندھر کے مقام میں فرمایا۔ابتلا کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے۔میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو قسم ہے مجھے اس کی ذات کی اس عشق و محبت الٰہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔اس لئے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں۔پھر یہ پڑھا هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا (مریم:۶۶) عفو و در گزر اپنے خادم حامد علی کو اپنی ڈاک ڈاکخانہ میں ڈالنے کو دی۔اس سے وہ کہیں فراموش ہوگئی۔ایک ہفتے کے بعد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اس کے برآمد ہونے پر حامد علی کو بلا کر اور خطوط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا کہا۔حامد علی۔تمہیں نسیان بہت ہوگیا ہے۔فکر سے کام کیا کرو۔