ملفوظات (جلد 1) — Page 410
کو ظاہر کرتے ہیں جو دفع شر اور افاضہ خیر ہیں۔افسوس ان علماء پر کہ انہوں نے افاضہ خیر کے بروز کو مانا اور دفع شر کے بروز سے انکار کیا۔۹۳؎ مرکز میں بار بار آنے کی تاکید دسمبر ۱۸۹۹ء کے جلسہ سالانہ پر بہت کم لوگ آئے۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بہت اظہار افسوس کیا اور فرمایا۔ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اکتائیں۔اور فرمایا۔جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اُس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھیرنے میں ہم پر بوجھ ہوگا اسے ڈرنا چاہیے کہ وہ شرک میں مُبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے تو ہماری مُہمات کا متکفّل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دُور پھینکنا چاہیے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ہم تو نکمے ہیں یُوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں توڑا کریں۔وہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے اُن کے دلوں میں ڈالا ہے کہ اُن کے پَیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ایک روز حکیم فضل دین صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں۔مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن کریم ہی کروں گا۔یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضورؑ کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت نہ ہو۔فرمایا۔آپ کا یہاں بیٹھنا ہی جہاد ہے اور یہ بیکاری ہی بڑا کام ہے۔غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا۔یہ عذر کرنے والے وہی ہیں جنھوں نے حضور میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کے عذر کیا تھا