ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 397

مار کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔سب عدالتیں قرآن شریف کی تعلیم کے موافق کھلی رہ سکتی ہیں۔اگر انجیل کے مطابق کریں تو آج ہی سب کچھ بند کرنا پڑے اور پھر دیکھو کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔انسان انجیلی تعلیم پر عمل نہیں کرسکتا۔پس یہ دو نمونے علمی اور عملی تقویٰ کے ہوتے ہیں۔کلامِ الٰہی پر ایمان لیکن اس کے سوا تیسری قسم تقویٰ کی ہے يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ (البقرۃ:۵) انسان قوتِ شہادت کا محتاج ہے۔ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ پاک شہادتوں سے دور ہو۔وہ راہ خطرناک راہ ہے جس میں راستبازوں کی شہادتیں موجود نہیں ہیں۔تقویٰ کی راہ یہی ہے کہ جس میں زبردست شہادتیں ہر زمانہ میں زندہ موجود ہوں۔مثلاً تم نے راہ پوچھا کسی نے کچھ کہا کہ یہ راہ فلاں طرف جاتا ہے مگر دس کہتے ہیں کہ نہیں یہ تو فلاں طرف جاتا ہے تو اب تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان بھلے مانس آدمیوں کی بات مان لو۔یاد رکھو کہ شہادت پاکبازوں کی ہی مقبول اور موزوں ہوتی ہے۔بد معاشوں کی شہادت کبھی مقبول نہیں ہوسکتی۔یہ تیسری قسم تقویٰ کی ہے جو يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ میں بیان ہوئی ہے۔اس کو چھوڑ کر بھی لوگ بہت خراب ہوتے ہیں۔ہمارے ساتھ جو لوگوں نے مخالفت کی ہے تو اسی وجہ سے کہ انہوں نے تقویٰ کی اس قسم کو چھوڑ دیا ہے۔وفاتِ مسیح خدا تعالیٰ کا کلام تیس (۳۰) آیتوں میں ہمارا مؤیّد ہے۔کبھی وہ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ (اٰل عـمران:۵۶) کہہ کر کبھی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کہہ کر کبھی مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (اٰل عـمران:۱۴۵) کہہ کر۔غرض کبھی کسی پیرایہ میں کبھی کسی صورت میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہی راہ سچی ہے جس پر ہم بفضلہ تعالیٰ قائم ہیں اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کو حضرت یحیٰیؑ کے ساتھ معراج میں دیکھتے ہیں۔اور یہ پکی بات ہے کہ ان دونوں میں کوئی خاص فرق جو زندوں اور مُردوں میں ہونا چاہیے نہیں بتایا۔کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عمر بتا کر یہ شہادت دیتے ہیں کہ وہ مَر گیا اور کبھی آنے والے مسیح موعود اور اسرائیلی مسیح کا حلیہ جدا جدا بتا کر سمجھاتے ہیں کہ وہ مَر گیا۔یہ شہادتیں تو حدیث اور قرآن کی ہیں۔اس کے علاوہ تمام صحابہ کی شہادت