ملفوظات (جلد 1) — Page 394
ہے۔ایک موقع مناسب پر غضب کا استعمال بھی اخلاقی رنگ حاصل کرلیتا ہے۔یہ نہیں کہ انجیل کی تعلیم کی طرح ایک ہی پہلو اپنے اندر رکھتی ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔یہ اخلاق نہیں ہے اور نہ یہ تعلیم حکمت کے اُصول پر مبنی ہوسکتی اگر ایسا ہو تو تمام فوجوں کا موقوف کردینا اور ہر قسم کے آلات حرب کو توڑ دینا لازم آئے گا اور مسیحی دنیا کو بطور ایک خادم کے رہنا پڑے گا کیونکہ اگر کوئی کرتہ مانگے تو چُغہ بھی دینا پڑے گا۔ایک کوس بیگار لے جانا چاہے تو دو کوس جانے کا حکم ہے۔پھر عیسائی لوگوں کو کس قدر مشکلات پیش آئیں اگر اس تعلیم پر عمل کریں نہ اُن کے پاس ضروریاتِ زندگی بسر کرنے کو کچھ رہے اور نہ کوئی آرام کی صورت کیونکہ جو کچھ اُن کے پاس ہو کوئی مانگ لے تو پھر اُن کے پاس خاک رہ جاوے؟ اگر محنت مزدوری سے کمانا چاہیں تو کوئی بیگار میں لگادے۔غرض اس تعلیم پر زور تو بہت دیا گیا ہے اور پادریوں کو دیکھا ہے کہ وہ بازاروں میں اس تعلیم کی بڑے شدومد سے تعریف کرکے وعظ کرتے ہیں لیکن جب عمل پوچھو تو کچھ نہیں ہے۔گویا بگفتن ہی سب کچھ ہے۔کرنے کے واسطے کچھ نہیں۔اس لئے اس کا نام اخلاق نہیں ہے۔اخلاق یہ ہے کہ تمام قویٰ کو جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں برمحل استعمال کیا جاوے۔مثلاً عقل دی گئی ہے اور کوئی دوسرا شخص جس کو کسی اَمر میں واقفیت نہیں اس کے مشورہ کا محتاج ہے اور یہ اس کی نسبت پوری واقفیت رکھتا ہے تو اخلاق کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ اپنی عقلِ سلیم سے اس کو پوری مدد دے اور اس کو سچا مشورہ دے۔لوگ ان باتوں کو معمولی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا کیا بگڑتا ہے۔اس کو خراب ہونے دو۔یہ شیطانی فعل ہے۔انسانیت سے بعید ہے کہ وہ کسی دوسرے کو بگڑتا دیکھے اور اُس کی مدد کے لئے طیار نہ ہو۔نہیں بلکہ چاہیے کہ نہایت توجہ اور دل دہی سے اس کی بات سُنے اور اپنی عقل و سمجھ سے اُس کو ضروری مدد دے۔لیکن اگر کوئی یہاں یہ اعتراض کرے کہ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ کیوں فرمایا؟ مِمَّا کے لفظ سے بخل کی بو آتی ہے۔چاہیے تھا کہ ہر چہ داری خرچ کن در راہِ اُو #