ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 383

عَنِ الْمُنْكَرِ (اٰل عـمران:۱۱۵) مومنوں کی شان ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی عملی حالت سے ثابت کر دکھائے کہ وہ اس قوت کو اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ اس سے پیشتر کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالے اس کو اپنی حالت اثر انداز بھی تو بنانی ضروری ہے۔پس یاد رکھو کہ زبان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کبھی مت روکو۔ہاں محل اور موقع کی شناخت بھی ضروری ہے اور انداز بیان ایسا ہونا چاہیے جو نرم اور سلاست اپنے اندر رکھتا ہو اور ایسا ہی تقویٰ کے خلاف بھی زبان کا کھولنا سخت گناہ ہے۔۸۹؎ قرآن کریم کی علّتِ غائی تقویٰ ہے پھر دیکھو کہ تقویٰ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (البقرۃ:۳،۲) میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں علل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے۔علت فاعلی، مادی، صوری، غائی۔ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چار ہی علل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے۔الٓمّٓ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت جاننے والا ہے اس کلام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ یہ مادہ بتایا۔یہ کہو کہ یہ علت مادی ہے۔عِلّتِ صُوَری لَا رَيْبَ فِيْهِ ہر ایک چیز میں شک و شبہ اور ظنون فاسد پیدا ہوسکتے ہیں مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی رَيْب نہیں ہے۔لاریب اسی کے لئے ہے یعنی سب قسم کے رَيْب۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی شان یہ بتائی کہ لَا رَيْبَ فِيْهِ تو طبعاً ہر ایک سلیم الفطرت اور سعادت مند انسان کی روح اچھلے گی اور خواہش کرے گی کہ اس کی ہدایتوں پر عمل کرے۔ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف کی اَجْلٰی اور اَصفٰی شان کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ورنہ قرآن شریف کی خوبیاں اور اس کے کمالات، اس کا حسن اپنے اندر ایک ایسا کشش اور جذب رکھتا