ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 382

اِیَّاکَ اَعْبُدُ یا اِیَّاکَ اَسْتَعِیْنُ نہیں کہا۔اس لئے کہ اس میں نفس کے تقدم کی بُو آتی تھی اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔تقویٰ والا کل انسانوں کو لیتا ہے۔زبان سے ہی انسان تقویٰ سے دور چلا جاتا ہے۔زبان سے ہی تکبر کر لیتا ہے اور زبان سے ہی فرعونی صفات آجاتی ہیں اور اسی زبان کی وجہ سے پوشیدہ اعمال کو ریاکاری سے بدل لیتا ہے اور زبان کا زیاں بہت جلد پیدا ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص ناف کے نیچے کے عضو اور زبان کو شر سے بچاتا ہے اس کی بہشت کا ذمہ دار میں ہوں۔حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قولِ زور۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے۔میرا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطراراً سؤر کھا لے تو یہ اَمر دیگر ہے لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتویٰ دے دے تو وہ اسلام سے دور نکل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھیراتا ہے۔غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیاں خطرناک ہے۔اس لئے متّقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقویٰ کے خلاف ہو۔پس تم اپنی زبانوں پر حکومت کرو نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور اناپ شناپ بولتے رہو۔ہر ایک بات کہنے سے پہلے سوچ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی اجازت اس کے کہنے میں کہاں تک ہے۔جب تک یہ نہ سوچ لو مت بولو۔ایسے بولنے سے جو شرارت کا باعث اور فساد کا موجب ہو نہ بولنا بہتر ہے لیکن یہ بھی مومن کی شان سے بعید ہے کہ امر حق کے اظہار میں رکے۔اس وقت کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور خوف زبان کو نہ روکے۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب کے سب دشمن ہوگئے مگر آپ نے ایک دم بھر کے لئے کبھی کسی کی پروا نہ کی۔یہاں تک کہ جب ابوطالب آپ کے چچا نے لوگوں کی شکایتوں سے تنگ آکر کہا۔اُس وقت بھی آپ نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں اس کے اظہار سے نہیں رک سکتا۔آپ کا اختیار ہے میرا ساتھ دیں یا نہ دیں۔پس زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف کسی بات کے کہنے سے روکنا ضروری ہے۔اسی قدر اَمرِ حق کے اظہار کے لئے کھولنا لازمی اَمر ہے۔يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ