ملفوظات (جلد 1) — Page 31
یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے اور جس کے اندر حقارت ہے ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے، اس کی دل جوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے، کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ (الـحجرات:۱۲) تم ایک دوسرے کے چڑ کے نام نہ ڈالو۔یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب کُل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ (الحجرات:۱۴) ذاتوں کا امتیاز یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لئے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگانا ہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کوئی سند نہیں۔حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقویٰ ہے۔متّقی کون ہیں؟ خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متّقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے