ملفوظات (جلد 1) — Page 32
سے گفتگو کرے۔ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہیے جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں وہ خالص تقویٰ کو چاہتا ہے جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی وراثت سے تو عزت نہیں پائی۔گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔یہ تو فضل الٰہی تھا ان صدقوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے۔یہی فضل کے محرک تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابوالانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے! آپؐ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پروا نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (الاحزاب:۵۷) ترجمہ۔اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم درود و سلام بھیجو نبی ؐ پر۔اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم ؐ کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے یعنی آپؐ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپؐ کی روح میں وہ صدق و صفا تھا اور آپؐ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ان کی ہمت و صدق وہ تھا کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔خود مسیح کے وقت کو دیکھ لیا جاوے کہ ان کی ہمت یا روحانی صدق و صفا کا کہاں تک اثر ان کے پیروؤں پر ہوا۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایک بد روش کو درست کرنا کس قدر مشکل ہے۔عادات راسخہ کا گنوانا کیسا محالات سے ہے لیکن ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا جو حیوانوں سے بدتر تھے۔بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانات کی