ملفوظات (جلد 1) — Page 381
سچی خوشحالی متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں پا سکتا ہے جو دنیادار اور حرص و آز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہیں مل سکتی۔جس قدر دنیا زیادہ ملتی ہے اسی قدر بلائیں زیادہ سامنے آجاتی ہیں۔پس یاد رکھو کہ حقیقی راحت اور لذّت دنیادار کے حصہ میں نہیں آتی۔یہ مت سمجھو کہ مال کی کثرت، عمدہ عمدہ لباس اور کھانے کسی خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں بلکہ اس کا مدار ہی تقویٰ پر ہے۔زبان کی حفاظت جبکہ اِن ساری باتوں سے معلوم ہوگیا کہ سچے تقویٰ کے بغیر کوئی راحت اور خوشی مل ہی نہیں سکتی تو معلوم کرنا چاہیے کہ تقویٰ کے بہت سے شعبے ہیں جو عنکبوت کے تاروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔تقویٰ تمام جوارح انسانی اور عقائد زبان اخلاق وغیرہ سے متعلق ہے۔نازک ترین معاملہ زبان سے ہے۔بسا اوقات تقویٰ کو دور کرکے ایک بات کہتا ہے اور دل میں خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے یوں کہا اور ایسا کہا حالانکہ وہ بات بُری ہوتی ہے۔مجھے اس پر ایک نقل یاد آئی ہے کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی۔جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیادار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تھال لانا جو ہم پہلے حج میں لائے تھے اور پھر کہا دوسرا تھال بھی لانا جو دوسرے حج میں لائے تھے اور پھر کہا کہ تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔اس بزرگ نے فرمایا کہ تُو تو بہت ہی قابل رحم ہے۔ان تین فقروں میں تو نے اپنے تین ہی حجوں کا ستیاناس کر دیا۔تیرا مطلب اس سے صرف یہ تھا کہ تو اس امر کا اِظہار کرے کہ تو نے تین حج کئے ہیں۔اس لئے خدا نے تعلیم دی ہے کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے اور بے معنی، بےہودہ، بے موقع، غیر ضروری باتوں سے احتراز کیا جائے۔دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی تعلیم دی ہے۔اب ممکن تھا کہ انسان اپنی قوت پر بھروسہ کرلیتا اور خدا سے دور ہو جاتا۔اس لئے ساتھ ہی اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی تعلیم دے دی کہ یہ مت سمجھو کہ یہ عبادت جو میں کرتا ہوں اپنی قوت اور طاقت سے کرتا ہوں ہرگز نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی استعانت جب تک نہ ہو اور خود وہ پاک ذات جب تک توفیق اور طاقت نہ دے کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور پھر