ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 369

انتہائی درجہ پر پہنچ کر سارا میل کچیل اتر کر پھر وہ کلمۃ اللہ ہی رہ جاتا ہے۔یہ ایک باریک علم اور معرفت کا نکتہ ہے۔ہر شخص اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔انسان کا کمال انسان کا کمال یہ ہے کہ اس میں حقیقی معرفت اور سچی فراست جو ایمانی فراست کہلاتی ہے (جس کے ساتھ اللہ کا ایک نور ہوتا ہے جو اس کی ہر راہ میں رہنمائی کرتا ہے) پیدا ہو۔بدوں اس کے انسان دھوکے سے نہیں بچ سکتا اور رسم و عادت کے طور پر کبھی کبھی نہیں بلکہ بسا اوقات سم قاتل پر بھی خوش ہو جاتا ہے۔پنجاب و ہندوستان کے سجادہ نشین اور گدیوں کے پیرزادے قوالوں کے گانے سے اور ھُوَحَقّ کے نعرے مارنے اور الٹے سیدھے لٹکنے ہی میں اپنی معرفت اور کمال کا انتہا جانتے ہیں اور ناواقف پیر پرست ان باتوں کو دیکھ کر اپنی روح کی تسلی اور اطمینان ان لوگوں کے پاس تلاش کرتے ہیں۔مگر غور سے دیکھو کہ یہ لوگ اگر فریب نہیں دیتے تو اس میں شک نہیں ہے کہ فریب خوردہ ضرور ہیں۔کیونکہ وہ سچا رشتہ جو عبودیت اور الوہیت کے درمیان ہے جس کے حقیقی پیوند سے ایک نور اور روشنی نکلتی ہے اور ایسی لذّت پیدا ہوتی ہے کہ دوسری کوئی لذّت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس کو ان قلابازیوں سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ہم نہایت نیک نیتی کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری نیت کیسی ہے پوچھتے ہیں کہ اگر اس قسم کے مشغلے عبادتِ الٰہی اور معرفت الٰہی کا موجب ہوسکتے ہیں اور انسانی روح کے کمال کا باعث بن سکتے ہیں تو پھر بازیگروں کو معرفت کی معراج پر پہنچا ہوا سمجھنا چاہیے اور انگریزوں نے تو ان کھیلوں اور کرتبوں میں اور بھی حیرت انگیز ترقیاں کی ہیں اور باوجود ان ترقیوں کے ان کی معرفت خدا کی نسبت یا تو یہ ہے کہ وہ سرے سے ہی منکر اور دہریہ ہیں اور اگر اقرار بھی کیا ہے تو یہ کہ ایک ناتواں بیکس انسان کہ جو ایک عورت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا خدا بنا لیا اور ایک خدا کو چھوڑ کر تین خداؤں کے قائل ہوئے۔جن میں سے ایک کو ملعون اور ہاویہ میں تین دن رہنے والا تجویز کیا۔اب اے دانشمندو! سوچو! اور اے سلیم الفطرت والو! غور کرو کہ اگر یہی الٹا سیدھا لٹکنا اور طبلہ اور سارنگی ہی کے ذریعہ خدا کی معرفت اور انسانی کمال حاصل ہوسکتا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ