ملفوظات (جلد 1) — Page 367
کے ذریعہ دلائل و براہین کے بغیر پہچان جاتا ہے۔اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِسْتَفْتِ الْقَلْبَ یعنی قلب سے فتویٰ پوچھ لے۔یہ نہیں کہا کہ دماغ سے فتویٰ پوچھ لو۔الوہیت کی تار اسی کے ساتھ لگی ہوئی ہے کوئی اس کو بعید نہ سمجھے۔یہ بات ادق اور مشکل تو ہے مگر تزکیۂ نفس کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ مکرّماتِ قلب میں موجود ہیں۔اگر قلب میں یہ طاقتیں نہ ہوتیں تو انسان کا وجود ہی بے کار سمجھا جاتا۔صوفی اور مجاہدہ کرنے والے لوگ جو تصوّف اور مجاہدات کے مشاغل میں مصروف ہوتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ قلب سے روشنی اور نور کے ستون شہودی طور پر نکلتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ایک خط مستقیم میں آسمان کو جاتے ہیں۔یہ مسئلہ بدیہی اور یقینی ہے۔میں اس کو خاص مثال کے ذریعہ سے بیان نہیں کر سکتا۔ہاں جن لوگوں کو مجاہدات کرنے پڑتے ہیں یا جنہوں نے سلوک کی منزلوں کو طے کرنا چاہا ہے انہوں نے اس کو اپنے مشاہدہ اور تجربہ سے صحیح پایا ہے۔قلب اور عرش کے درمیان گویا باریک تار ہے۔قلب کو جو حکم کرتا ہے اس سے ہی لذّت پاتا ہے۔خارجی دلائل اور براہین کا محتاج نہیں ہوتا ہے بلکہ ملہم ہو کر خدا سے اندر ہی اندر باتیں پا کر فتویٰ دیتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ جب تک قلب قلب نہ بنے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ (الملک:۱۱) کا مصداق ہوتا ہے۔یعنی انسان پر ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ جس میں نہ قلب و دماغ کی قوتیں اور طاقتیں ہوتی ہیں۔پھر ایک زمانہ دماغ کا آتا ہے۔دماغی قوتیں اور طاقتیں نشوونما پاتی ہیں اور ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ قلب منور اور مشتعل اور روشن ہو جاتا ہے۔جب قلب کا زمانہ آتا ہے اس وقت انسان روحانی بلوغ حاصل کرتا ہے اور دماغ قلب کے تابع ہو جاتا ہے اور دماغی قوتوں کو قلب کی خاصیتوں اور طاقتوں پر فوق نہیں ہوتا۔یہ بھی یاد رہے کہ دماغی حالتوں کو مومنوں سے ہی خصوصیت نہیں ہے۔ہندو اور چوہڑے وغیرہ بھی سب کے سب ہر ایک دماغ سے کام لیتے ہیں۔جو لوگ دنیوی معاملات اور تجارت کے کاروبار میں مصروف ہیں وہ سب کے سب دماغ سے کام لیتے ہیں۔ان کی دماغی قوتیں پورے طور پر نشوونما پائی ہوئی ہوتی ہیں اور ہر روز نئی نئی باتیں اپنے کاروبار کے متعلق ایجاد کرتے ہیں۔یورپ اور نئی دنیا کو دیکھو کہ یہ لوگ کس قدر دماغی قوتوں سے کام لیتے ہیں