ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 29

ان کا استیصال کرے۔رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسانی میں رکھے گئے ہیں ان کو چھوڑنا خدا کا مقابلہ کرنا ہے جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا۔یہ تمام حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا تو گویا اس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قویٰ ہم میں پیدا کئے۔سو ایسی تعلیمیں جو انجیل میں ہیں اور جن سے قویٰ کا استیصال لازم آتا ہے ضلالت تک پہنچاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو اس کی تعدیل کا حکم دیتا ہے ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔جیسے فرمایا اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ۔۔۔۔الخ (النّحل:۹۱) عدل ایک ایسی چیز ہے جس سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔مسیحؑ کا یہ تعلیم دینا کہ اگر تو بری آنکھ سے دیکھے تو آنکھ نکال ڈال۔اس میں اَور قویٰ کا استیصال ہے کیوں تعلیم ایسی نہ کی کہ تو غیر محرم عورت کو ہرگز نہ دیکھ۔اجازت دی کہ دیکھ تو ضرور لیکن زنا کی آنکھ سے نہ دیکھ۔دیکھنے سے تو ممانعت ہے ہی نہیں۔دیکھے گا تو ضرور، بعد دیکھنے کے دیکھنا چاہیے کہ اس کے قویٰ پر کیا اثر ہو گا۔کیوں نہ قرآن کی طرح آنکھ کو ٹھوکر والی چیز ہی کے دیکھنے سے روکا اور آنکھ جیسی مفید اور قیمتی چیز کو ضائع کر دینے کا افسوس لگایا۔اسلامی پردہ آج کل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ جانتے نہیں کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہوگا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں، سیریں کریں کیونکر جذبات نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد، عورت کو ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔ان ہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے ہی کی اجازت نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقع میں یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح دو غیر محرم مرد و عورت جمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جا رہی ہے یہ انہیں تعلیموں کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز