ملفوظات (جلد 1) — Page 361
رکھا ہوا ہوتا ہے۔پس انسان جب وعظ کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر بہت ہی عمدہ کام ہے مگر اس منصب پر کھڑے ہونے والے کو ڈرنا چاہیے کہ اس میں مخفی طور پر شیطان کا بھی حصہ ہے۔کچھ تو واعظ کے بخرہ میں آتا ہے اور کچھ سننے والوں کے حصہ میں۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب واعظ وعظ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو مقصد اور دلی تمنّا صرف یہ ہوتی ہے کہ مَیں ایسی تقریر کروں کہ سامعین خوش ہوجائیں۔ایسے الفاظ اور فقرات بولوں کہ ہر طرف سے واہ وا کی آوازیں آئیں۔مَیں اس قسم کی تقریر کرنے والوں کے مقاصد کو اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا جیسے بھڑوے، نقّال، قوّال، گویّے یہی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے سننے والے ان کی تعریفیں کریں۔پس جب ایک مجمع کثیر سننے والا ہو اور اس میں ہر ایک مذاق اور درجہ کے لوگ موجود ہوں تو خدا کی طرف کی آنکھ کھلی نہیں ہوتی۔اِلَّا مَاشَاءَ اللہ مقصود یہی ہوتا ہے کہ سننے والے واہ وا کریں۔تالیاں بجائیں اور چیئرز دیں۔غرض یہ حصہ شیطان کا واعظ یا بولنے والے میں ہوتا ہے اور سامعین میں شیطانی حصہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بولنے والے کی فصاحت و بلاغت، زبان پر پوری حکومت اور قادرالکلامی، برمحل اشعار، کہانیوں اور ہنسانے والے لطیفوں کو پسند کریں اور داد دیں تاکہ سخن فہم ثابت ہوں۔گویا اُن کا مقصود بجائے خود خدا سے دُور ہوتا ہے اور بولنے والے کا الگ۔وہ بولتا ہے مگر خدا کے لئے نہیں اور یہ سنتے ہیں مگر ان باتوں کو دل میں جگہ نہیں دیتے اس لیے کہ وہ خدا کے لئے نہیں سنتے۔یہ کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس بات کے واسطے کہ ایک لذّت حاصل کریں۔یاد رکھو! انسان دو قسم کی لذّتوں کا مجموعہ ہے۔ایک رُوح کی لذّت ہے۔دُوسری نفس کی لذّت۔رُوحانی لذّت تو ایک باریک اور عمیق راز ہے جس پر اگر کسی کو اطلاع مل جائے اور ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی جس کو یہ سرور اور ذوق مل جائے وہ اس سے سرشار اور مست ہو جائے۔نفسانی لذّتیں ایسی ہیں کہ ہمیشہ آنی اور فانی ہوتی ہیں۔نفسانی لذّت وہ لذّت ہے جس کے ساتھ ایک طوائف بازاروں میں ناچ کرتی ہے۔وہ بھی اس لذّت میں شریک ہیں۔جیسے مولوی واعظ کی حیثیت میں گاتا