ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 360

خدمت میں پہنچا تو میں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک سمندر ہے جس سے سب شاخیں نکلتی ہیں مگر ہمیں شہودیوں والی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں جو کہا گیا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الفاتحۃ:۲) عالمین کا ربّ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ربّ اور ہے اور عالَم اور ہے۔ورنہ اگر وحدتِ وجود والی بات صحیح ہوتی تو ربّ العین کہا جاتا۔۸۶؎ ۲۸؍دسمبر۱۸۹۹ء حضرت اقدسؑ کی پہلی تقریر برموقع جلسہ سالانہ تقریر اور وعظ میں محض للہیت مقصود ہو سب صاحبان متوجہ ہوکر سنیں۔مَیں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قیل و قال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اُس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اُس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کررہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔مَیں اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔مَیں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا ہی یہی اقتضا ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔اگر اللہ کی رضا اور اس کے احکام کی تعمیل میرا مقصد نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے تقریریں کرنی اور وعظ سنانا تو ایک طرف مَیں تو ہمیشہ ہمیشہ خلوت ہی کو پسند کرتا ہوں اور تنہائی میں وہ لذّت پاتا ہوں جس کو بیان نہیں کرسکتا مگر کیا کروں بنی نوع کی ہمدردی کھینچ کھینچ کر باہر لے آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس نے مجھے تبلیغ پر مامور کیا ہے۔مَیں نے یہ بات کہ ظاہری قیل و قال ہی کو پسند نہ کیا جائے اس لیے بیان کی ہے کہ ہر خیر میں بھی شیطان کا حصہ