ملفوظات (جلد 1) — Page 359
اس کا کمال بتاتا ہے کہ اب اس کے زوال کا وقت ہے۔اس کا ارتفاع ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ نیچا دیکھے گا۔اس کی آبادی اس کی بربادی کا نشان ہے۔ہاں ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے۔خدا کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔اگر ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تو پھر بھی مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے کہ مسیح اب تک کیوں نہیں آیا؟ یہ کسرِ صلیب کے لئے آیا ہے ان کو چاہیے نہیں تھا کہ یہ اس کو اپنے جھگڑوں کے لئے بلاتے؟ اس کا کام کسرِ صلیب ہے اور اسی کی زمانہ کو ضرورت ہے اور اسی واسطے اس کا نام مسیح موعود ہے۔اگر ملانوں کو نوع انسان کی بہبودی مدّنظر ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے۔ان کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے فتویٰ لکھ کر کیا بنا لیا ہے جس کو خدا نے کہا کہ ہو جاوے اس کو کون کہہ سکتا ہے کہ نہ ہووے؟ یہ ہمارے مخالف بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں کہ مشرق و مغرب میں ہماری بات کو پہنچا دیتے ہیں۔ابھی ہم نے سنا ہے کہ گولڑے والا پیر ایک کتاب ہمارے بر خلاف لکھنے والا ہے سو ہم خوش ہوئے کہ اس کے مریدوں میں سے جس کو خبر نہ تھی اس کو بھی خبر ہو جاوے گی اور ان کو ہماری کتابوں کے دیکھنے کے لیے ایک تحریک پیدا ہوگی۔اس کے بعد آپ اندر تشریف لے گئے۔ایک اور وقت میں فرمایا کہ یہ جو حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں ذلیل لوگ عزت پا جائیں گے۔سو یہ بات چوہڑوں اور چماروں کے عیسائی ہونے میں پوری ہوئی کہ ان کو انگریزی کی تعلیم دے کر اور انگریزی نام رکھ کر دفتروں میں افسر کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے خاندانی ان کے سامنے ایک ذلیل کی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔وحدت شہود صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے ایک لطیفہ سنایا کہ میں وحدت وجود کے مسئلہ کا قائل تھا اور شہودیوں کا سخت مخالف۔جب میں پہلے پہلے حضرت اقدس مرزا صاحب کی