ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 357

جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھاوے کہ اس کی عظمت کے بر خلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔یہ بڑی عبادت ہے جو اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں وہی مؤید کہلاتے ہیں اور وہی برکتیں پاتے ہیں۔جو خدا کی عظمت اور جلال اور تقدیس کے واسطے جوش نہیں رکھتے ان کی نمازیں جھوٹی ہیں اور ان کے سجدے بیکار ہیں۔جب تک خدا کے لئے جوش نہ ہو یہ سجدے صرف منتر جنتر ٹھہریں گے جن کے ذریعہ سے یہ بہشت کو لینا چاہتا ہے۔یاد رکھو کوئی جسمانی بات جس کے ساتھ کیفیت نہ ہو فائدہ مند نہیں ہو سکتی جیسا کہ خدا کو قربانی کے گوشت نہیں پہنچتے ایسے تمہارے رکوع اور سجود بھی نہیں پہنچتے جب تک ان کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔خدا کیفیت کو چاہتا ہے۔خدا ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی عزت اور عظمت کے لئے جوش رکھتے ہیں۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ایک باریک راہ سے جاتے ہیں اور کوئی دوسرا ان کے ساتھ نہیں جاسکتا۔جب تک کیفیت نہ ہو انسان ترقی نہیں کر سکتا گویا خدا نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اس کے لیے جوش نہ ہو کوئی لذّت نہیں دے گا۔ہر ایک آدمی کے ساتھ ایک تمنّا ہوتی ہے پر مومن نہیں بن سکتا جب تک ساری تمنّاؤں پر خدا کی عظمت کو مقدم نہ کر لے۔ولی قریب اور دوست کو کہتے ہیں جو دوست چاہتا ہے وہی یہ چاہتا ہے تب یہ ولی کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّٰرِیٰت:۵۸) چاہیے کہ یہ خدا کے لیے جوش رکھے۔پھر یہ اپنے ابنائے جنس سے بڑھ جائے گا۔خدا کے مقرب لوگوں میں سے بن جائے گا۔مُردوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے کہ مُردہ کے منہ میں ایک شے ایک طرف سے ڈالی جاتی ہے تو دوسری طرف سے نکل آتی ہے اسی طرح شقاوت کے وقت کوئی چیز اچھی ہو اندر نہیں جاتی۔یاد رکھو کہ کوئی عبادت اور صدقہ قبول نہیں جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جوش نہ ہو۔ذاتی جوش نہ ہو۔جس کے ساتھ کوئی ملونی ذاتی فوائد اور منافع کی نہ ہو۔ایسا ہو کہ خود بھی نہ جانے کہ یہ جوش میرے میں کیوں ہے۔بہت ضرورت ہے کہ ایسے لوگ بکثرت پیدا ہوں مگر سوائے خدا کے