ملفوظات (جلد 1) — Page 354
باہر تشریف فرما رہے اور مغرب کے بعد آپ نے ایک مخلص کا ایک خط سنا اور دو اخباریں سنیں ایک تو سیالکوٹ کی جن میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے اور اس کو سن کر بہت محظوظ ہوئے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ لکھنے والے کا اجر قائم ہو گیا۔خصوصاً ڈاکٹر لوقا کے لفظ پر بہت خوش ہوئے اور اس کے ڈاکٹر ہونے کے متعلق زیادہ تحقیقات کرنے کے واسطے اس عاجز کو ارشاد صادر فرمایا۔۔۔۔اسی وقت حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کی ایک نظم حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھی۔۔۔۔نظم کو سن کر حضرت اقدس بمعہ جماعت بہت خوش ہوئے اور حضرت نے فرمایا کہ اس کو کہیں چھپوا دینا چاہیے۔۔۔۔۔ڈنکا بجا جہاں میں مسیحا کے نام کا خادم ہے دینِ پاک رسول اَنام کا۔۔۔۔نماز فجر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور نماز کے بعد اندر چلے گئے اور اس کے بعد نو بجے کے قریب سیر کے واسطے تشریف لائے اور احباب ہمہ گوش ہو کر ساتھ ہو لیے۔وہی رات والے مضمون ڈاکٹر لوقا کا ذکر درمیان آیا۔میاں اللہ دیا صاحب لدھیانوی بھی اتفاقاً ساتھ تھے انہوں نے بھی تصدیق کی کہ لوقا ڈاکٹر تھا مگر یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تھا۔اس کے واسطے زیادہ تحقیقات کے لیے میاں اللہ دیا کو بھی ارشاد ہوا۔اسی پر بہت دیر تک گفتگو ہوتی ہوئی چلی گئی۔حضرت نے فرمایا۔عربی میں لق چٹنی کو بھی کہتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ انگریزی میں لق چاٹنے کو کہتے ہیں۔فرمایا۔چٹنی تک تو بات پہنچ گئی ہے اُمید ہے کہ مرہم پٹی تک بھی بات نکل آوے۔فرمایا کہ انگریزی کتابوں اور تاریخ کلیسا سے اس کے حالات کے متعلق تحقیقات کرنی چاہیے یہ ایک نئی بات نکلی ہے۔پھر فرمایا کہ یہ کچھ مشکل امر نہیں ہے۔اگر ہم چاہیں تو لوقا پر توجہ کریں اور اس سے سب حال دریافت کریں مگر ہماری طبیعت اس اَمر سے کراہت کرتی ہے کہ ہم اللہ کے سوائے کسی اور کی طرف توجہ کریں۔خدا تعالیٰ آپ ہمارے سب کام بناتا ہے۔کشفِ قبور پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو کشف قبور لیے پھرتے ہیں یہ سب جھوٹ اور لغو اور بیہودہ بات ہے اور شرک ہے۔ہم نے سنا ہے کہ اس طرف ایک شخص پھرتا ہے اور اس کو