ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 351

کی شعبدہ بازیاں مداری لوگ دکھاتے ہیں کہ انسان کی سمجھ میں ہرگز نہیں آتا کہ یہ امر کس طرح سے ہو گیا اور انگریز لوگ ایسے ایسے کرتوت شعبدہ بازی کے دکھاتے ہیں کہ مَرا ہوا آدمی واپس آجاتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیزیں ثابت دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ آئین اکبری میں بھی ابوالفضل نے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ ایک شعبدہ باز آسمان پر لوگوں کے سامنے چڑھ گیا اور اُوپر سے اس کے اعضاء ایک ایک ہو کر گرے اور اس کی بیوی ستی ہوگئی لیکن وہ آسمان سے پھر اُتر آیا اور اس نے اپنی بیوی کے لیے مطالبہ کیا اور ایک وزیر پر شبہ کیا کہ اُس نے چھپا رکھی ہے اور یہ اس پر عاشق ہے اور پھر اس کی تلاشی کی اجازت بادشاہ سے لے کر اسی کی بغل سے نکال لی۔فرمایا۔ایسی صورتوں میں پھر سوائے اس کے اور کچھ بات باقی نہیں رہتی ہے کہ انسان ایمان سے کام لے اور انبیاء کے کاموں کو خدا کی طرف سے سمجھے اور شعبدہ بازوں کے کاموں کو دھوکا اور فریب خیال کرے اور اس طرح سے یہ معاملہ بہت نازک ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو جو معجزہ عطا فرمایا ہے وہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم اور اصولِ تمدن کا ہے اور اس کی بلاغت اور فصاحت کا ہے جس کا مقابلہ کوئی انسان کر نہیں سکتا اور ایسا ہی معجزہ غیب کی خبروں اور پیشگوئیوں کا ہے۔اس زمانہ کا کوئی شعبدہ بازی میں استاد ہرگز ایسا کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے نشانات کو ایک تمیز صاف عطا فرمائی ہے تاکہ کسی شخص کو حیلہ حجت بازی کا نہ رہے اور اس طرح خدا نے اپنے نشانات کھول کھول کر دکھائے ہیں جن میں کوئی شک و شبہ اپنا دخل نہیں پیدا کرسکتا۔ایک شخص نے کہا کہ کوئی اعتراض کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو آپ مروا ڈالا۔فرمایا۔یہ ایک بیہودہ اور جھوٹ بات ہے مگر ان لوگوں کو یہ تو خیال کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع اور کعب کو کیوں قتل کروایا تھا؟ فرمایا۔ہماری پیشگوئیاں سب اقتداری پیشگوئیاں ہیں اور یہ نشان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں۔قرآن شریف کا اعجاز فرمایا۔لوگوں کی فصاحت اور بلاغت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔جیسے ایک عرب نے