ملفوظات (جلد 1) — Page 349
دارالامان کو روانہ ہوا۔راستہ میں سے شیخ چراغ علی صاحب جو کہ شیخ حامد علی صاحب کے چچا ہیں نہایت مہربانی سے میرے ساتھ ہوئے اور میرا بوجھ اُٹھایا اور مجھے راستہ دکھایا اور ہم دارالامان میں پہنچے۔فالحمد للہ علی ذٰلک۔نماز فجر کے وقت حضور اقدسؑ کی زیارت مسجد میں ہوئی جس سے قلب کو نور حاصل ہوا اور بعد نماز فجر آپ نے وہ انگریزی اشتہار اوّل سے آخر تک سنا۔عبارت انگریزی پڑھ کر اور ہر ایک فقرہ کے ساتھ ترجمہ کرکے میں نے سنایا اور اس کے بعد آپ اندر تشریف لے گئے اور پھر نو بجے کے قریب سیر کے واسطے تشریف لائے۔ملتے ہی فرمایا۔آپ نے اس کام میں خوب ہمت کی۔انگریزی دانوں کے لئے حصول ثواب کی راہ فرمایا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ہم نے انگریزی نہیں پڑھی کہ آپ لوگوں کو ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہے۔انگریزی اگر ہم پڑھے ہوئے ہوتے تو اردو کی طرح اس کے بھی دو چار صفحے ہر روز ہم لکھ دیا کرتے مگر وہ خدا نے چاہا کہ جیسے آپ ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ہیں آپ لوگوں کو بھی یہ ثواب دیا جاوے۔میں نے عرض کی کہ یہ ہمت اور ثواب تو مولوی محمد علی صاحب کا ہی ہے۔فرمایا کہ عالمگیر کے زمانہ میں مسجد شاہی کو آگ لگ گئی تو لوگ دوڑے دوڑے بادشاہ سلامت کے پاس پہنچے اور عرض کی کہ مسجد کو تو آگ لگ گئی۔اس خبر کو سن کر وہ فوراً سجدہ میں گرا اور شکر کیا۔حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت! یہ کون سا وقت شکر گذاری کا ہے کہ خانہءِ خدا کو آگ لگ گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔تو بادشاہ نے کہا کہ میں مدت سے سوچتا تھا اور آہ سرد بھرتا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے اور اس عمارت کے ذریعہ سے ہزارہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے کاش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ اس کارِ خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہوتا لیکن چاروں طرف سے میں اس کو ایسا مکمل اور بے نقص دیکھتا تھا کہ مجھے کچھ سوجھ نہ سکتا کہ اس میں میرا ثواب کس طرح ہوجاوے۔سو آج خدا نے میرے واسطے حصولِ ثواب کی ایک راہ نکال دی۔وَاللّٰهُ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔