ملفوظات (جلد 1) — Page 340
نے اپنے صدق و وفا کا وہ نمونہ دکھایا جو ابدا لآباد کے لئے نمونہ رہے گا۔اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت صدیقؓ کی فضیلت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبردست دلیل ہے۔دیکھو! اگر وائسرائے ہند کسی شخص کو کسی خاص کام کے لئے انتخاب کرے تو وہ رائے بہتر اور صائب ہوگی یا ایک چوکیدار کی۔ماننا پڑے گا کہ وائسرائے کا انتخاب بہرحال موزوں اور مناسب ہوگا کیونکہ جس حال میں سلطنت کی طرف سے وہ نائب السلطنت مقرر کیا گیا ہے تو اس کی وفاداری، فراست اور پختہ کاری پر سلطنت نے اعتماد کیا ہے۔تب زمام سلطنت اس کے ہاتھ میں دی ہے۔پھر اس کی صائب تدبیری اور معاملہ فہمی کو پس پشت ڈال کر ایک چوکیدار کے انتخاب اور رائے کو صحیح سمجھ لیا جاوے یہ نامناسب امر ہے۔ہجرت میں رفاقت کے لئے حضرت ابو بکرؓ کے انتخاب کا سِرّ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب تھا۔اس وقت آپ کے پاس ستر (۷۰) اسی (۸۰) صحابہ موجود تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس ہی تھے مگر آپ نے ان سب میں سے حضرت ابو بکرؓ ہی کو منتخب کیا۔اس میں سِرّ کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔اس کا فہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کشف اور الہام سے بتا دیا تھا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابو بکر صدیقؓ ہی ہیں۔۸۲؎ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ساعت عُسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا۔حضرت مسیحؑ پر جب اس قسم کا وقت آیا تو ان کے شاگرد اُن کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک نے سامنے ہی لعنت بھی کی مگر صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھایا۔غرض حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غارِ ثور کہتے ہیں آپ جا چھپے۔شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آ پہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم