ملفوظات (جلد 1) — Page 339
انسان ایمان کو اپنے اندر داخل نہ کرے کچھ نہیں بنتا۔بہانہ سازی اس وقت تک دور ہی نہیں ہوتی۔عملی طور پر جب آگ لگی ہوئی ہو تو ثابت قدم نکلنے والے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔حضرت مسیح کے حواری اس آخری گھڑی میں جو مصیبت کی گھڑی تھی ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور بعض نے سامنے ہی لعنت بھی کر دی۔حقیقت میں یہ بڑی عبرت کا مقام ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ایک وقت آیا تھا کہ مسلم نے ۷۰ ہزار آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھی اورعہد کیا۔کسی نے آکر یزید کی خبر دی سب کے سب چھوڑ بھاگے۔عمل ایمان کا زیور ہے اِس قسم کے واقعات ڈراتے ہیں۔اپنے ایمان کا وزن کرو۔عمل ایمان کا زیور ہے۔اگر عملی حالت درست نہیں ہے تو حقیقت میں ایمان بھی نہیں ہے۔مومن حسین ہوتا ہے۔جیسے ایک خوبصورت کو معمولی اور ہلکا سا کڑا بھی پہنا دیا جاوے تو اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے اسی طرح پر ایماندار کو عمل اور بھی خوبصورت دکھاتا ہے اور اگر بدعمل ہے تو کچھ بھی نہیں۔حقیقی ایمان جب انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے تو اعمال میں ایک لذّت پیدا ہو جاتی ہے۔اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔وہ نماز پڑھتا ہے جو نماز پڑھنے کا حق ہے۔گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہوتی ہے۔ناپاک مجلسوں سے نفرت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عظمت اور جلال کے ظاہر کرنے کے واسطے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ دیکھتا ہے۔وہی ایمان اسے مسیحؑ کی طرح صلیب پر چڑھانے سے نہیں روکتا۔وہ خدا کے لئے ہاں خدا ہی کے لئے ابراہیم ؑ کی طرح آگ میں بھی پڑ جانے پر راضی ہوتا ہے۔جب وہ اپنی رضا کو رضائے الٰہی کے ماتحت کر دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جو عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ہے اس کا محافظ اور نگران ہو جاتا ہے۔وہ صلیب پر سے بھی زندہ اتار لیتا ہے اور آگ میں سے بھی صحیح و سلامت نکال لیتا ہے۔ان عجائبات کو وہی دیکھتے ہیں جو خدا تعالیٰ پر پورا ایمان لاتے ہیں۔غرض ابو بکر صدیقؓ کا صدق اس آگ کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا۔گو بعض کی رائے اخراج کی بھی تھی لیکن اصل قتل ہی تھا۔ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق