ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 338

قول ہی قول نہ تھا بلکہ اپنے فعل کے ساتھ اس کو مطابق کر کے دکھایا اور ایسا مطابق کیا کہ اخیر دم تک اسے نبھایا اور بعد مرنے کے بھی ساتھ نہ چھوڑا۔قول اور فعل میں مطابقت حقیقت میں اس امر کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان کا قول اور فعل باہم ایک مطابقت رکھتے ہوں۔اگر ان میں مطابقت نہیں تو کچھ بھی نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ (البقرۃ:۴۵) یعنی تم لوگوں کو تو نیکی کا امر کرتے ہو مگر اپنے آپ کو اس امر نیکی کا مخاطب نہیں بناتے بلکہ بھول جاتے ہو۔اور پھر دوسری جگہ فرمایا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصّف:۳) مومن کو دو رنگی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔یہ بزدلی اور نفاق اس سے ہمیشہ دور ہوتا ہے۔ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست رکھو اوران میں مطابقت دکھاؤ۔جب صحابہؓ نے اپنی زندگیوں میں دکھایا تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاؤ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نمونہ اپنے سامنے رکھو حضرت ابو بکرصدیقؓ کے نمونے کو ہمیشہ سامنے رکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اُس زمانہ پر غور کرو جب ہر طرف سے قریش شرارت پر تلے ہوئے تھے اور کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کا منصوبہ کیا وہ زمانہ بڑے ابتلا کا زمانہ تھا۔آج جس قدر تم بیٹھے ہوئے ہو اپنی اپنی جگہ سوچو کہ اگر اس قسم کا کوئی ابتلا آجاوے تو کون ہے جو ساتھ دے۔یا مثلاً گورنمنٹ ہی کی طرف سے یہ تفتیش شروع ہو کہ کس کس نے اس شخص کی بیعت کی ہے تو کتنے ہوں گے جو دلیری کے ساتھ کہہ دیں کہ ہم مبایعین میں داخل ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعضوں کے ہاتھ پاؤں سن ہو جاویں۔انہیں فوراً اپنی جائیدادوں اور رشتہ داروں کے خیالات آجاویں کہ ہمیں یہ چھوڑنے پڑیں گے۔مشکلات کے وقت ساتھ دینا ہمیشہ کامل الایمان لوگوں کا کام ہوتا ہے تو اس زمانہ میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر سخت ابتلا کا زمانہ تھا اور آپ کے قتل کے منصوبے ہو رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے وہ حقِ رفاقت ادا کیا کہ اس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔یہ طاقت اور قوت بجز ایمان کے نہیں آتی۔جب تک عملی طور پر