ملفوظات (جلد 1) — Page 331
ملفوظات حضرت مسیح موعود پیدا ہو جاتی ہے۔ ۳۳۱ جلد اول صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب کمال صدیقیت کے حصول کا فلسفہ وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا ، نہ جھوٹی گواہی دوں گا اور جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹی کلام نہ کروں گا۔ نہ لغو طور پر، نہ کسب خیر کے لئے ، نہ دفع شر کے لئے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا ۔ جب اس حد تک وعدہ کرتا ہے تو گویا ايَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔ خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض اور صدق اور راستی کا چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا۔ جیسے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ کوئی تاجر جو اچھے اصولوں پر چلتا ہے اور راستبازی اور دیانتداری کو ہاتھ سے نہیں دیتا اگر چہ وہ ایک پیسہ سے تجارت کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسہ کے لاکھوں لاکھ روپیہ دیتا ہے۔ اسی طرح پر جب عام طور پر انسان صدیق پر معارف قرآنی کھولے جاتے ہیں راستی اور راستبازی سے محبت کرتا ہے۔ اور صدق کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے اور وہ صدق مجسم قرآن کریم ہے اور وہ صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل حق اور صدق ہوتے ہیں۔ پس وہ اس صدق تک پہنچ جاتے ہیں تب ان کی آنکھ کھلتی ہے اور ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی کھلنے لگتے ہیں۔ میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی طیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راستبازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے اس واسطے کہ اس کے قلب کو مناسبت ہی نہیں ۔ یہ تو صدق کا چشمہ ہے اسے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔