ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 318

لیکن جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم جس کا نتیجہ خشیت اللہ ہے عطا کیا جاتا ہے وہ وہ ہیں جن کو اس حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔سچے علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچے علوم کا منبع اور سرچشمہ قرآنِ شریف اس امت کو دیا ہے۔جو شخص ان حقائق و معارف کو پا لیتا ہے جو قرآن شریف میں بیان کئے گئے ہیں اور جو حقیقی تقویٰ اور خشیت اللہ سے حاصل ہوتے ہیں اسے وہ علم ملتا ہے جو اس کو انبیاء بنی اسرائیل کا مثیل بنا دیتا ہے۔ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایک شخص کو جو ہتھیار دیا گیا ہے اگر وہ اس سے کام نہ لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس ہتھیار کا۔اس وقت دنیا کی یہی حالت ہو رہی ہے۔مسلمانوں نے باوجودیکہ قرآن شریف جیسی بے مثل نعمت ان کے پاس تھی جو ان کو ہر گمراہی سے نجات بخشتی اور ہر تاریکی سے نکالتی ہے لیکن انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کی پاک تعلیموں کی پروا نہیں کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں یہاں تک کہ اب اگر حقیقی اسلام ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ اس سے بکلی بے خبر اور غافل ہیں اس لئے حقیقی مومن کو بھی کافر کہہ دیتے ہیں۔۷۷؎ ولی بننے کے لئے خداداد قویٰ سے کام لو بہت سے لوگ ہیں جو اوباشانہ اور عیاشانہ حالات زندگی رکھتے ہیں اور وہ دنیا کا فخر، دنیا کی عزت اور املاک و دولت چاہتے ہیں۔اس قسم کی آرزوؤں اور تمناؤں اور ان کے پورا کرنے کی تدبیروں اور تجویزوں میں ہی اپنی عمر کھو بیٹھتے ہیں۔ان کی آرزوؤں کی انتہا نہیں ہوتی کہ پیغامِ موت آجاتا ہے۔اب ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے قویٰ تو دیئے تھے۔انہیں قویٰ سے اگر کام لیتے تو حق کو پا لیتے۔اللہ تعالیٰ نے تو بخل نہیں کیا مگر انہوں نے قویٰ سے کام نہ لیا یہ ان کی اپنی بد بختی ہے۔نیک بخت اور مبارک ہے وہ شخص جو ان قویٰ سے کام لے۔بہت سے آدمی ایسے بھی ہیں کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے اوامر کی پابندی کرو اور نواہی سے پرہیز کرو۔تو وہ کہہ دیتے