ملفوظات (جلد 1) — Page 315
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۵ جلد اول ایک دوسرے فعل سے ناراض کر لیا ہے۔ پھر وہ رضا کا مقام کیوں کر ملے جب تک غضب الہی دور نہ ہو۔ اور وہ نادان ان اسباب غضب سے نا واقف ہوتا ہے بلکہ اپنے نماز روزہ پر اسے ایک ناز اور گھمنڈ ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا غضب دن بدن بڑھتا جاتا ہے اور وہ بجائے اس کے قرب حاصل کرنے کے دن بدن اللہ تعالیٰ سے دور ہٹتا جاتا ہے یہاں تک کہ بالکل راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح پر وہ شخص جو بالکل فنا کی حالت میں ہے اور آستانہ الوہیت پر گرا ہوا ہے اور آغوش ربوبیت میں پرورش پا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت نے اسے ڈھانپ لیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا بات کرنا خدا کا بات کرنا ہوتا ہے۔ اس کا دوست خدا کا دوست اور اس کا دشمن خدا کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کا دشمن رہ کر کوئی شخص مومن کامل کیوں کر ہوسکتا ہے۔ اس طرح پر اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے اور اسے مغضوب علیہم میں سے بنا دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اولیاء اللہ کی مخالفت اور ان کو ایذا رسانی کبھی اچھا پھل نہیں دے سکتی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں ان کو ستا کر اور دکھ دے کر بھی آرام پاسکتا ہوں وہ سخت غلطی کرتا ہے اور نفس اس کو دھوکا دے رہا ہے۔ دوسری وجہ سلب ایمان کی یہ ہوتی ہے کہ ولی اللہ خدا کے مقرب ہوتے ہیں کیونکہ ولی کے معنی قریب کے ہیں۔ یہ لوگ گویا اللہ تعالیٰ کو سامنے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ایک محجوب کی طرح ہوتے ہیں جن کے سامنے ایک دیوار حائل ہو۔ اب یہ دونوں برابر کیوں کر ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک تو ان میں سے ایسا ہے کہ جس کے سامنے کوئی پردہ ہی نہیں ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اس کو آنکھیں دے دی ہیں اور ایک بصیرت ایسی عطا کی گئی ہے اس لئے اس کا ہر قول و فعل علی وجہ البصیرت ہے ۔ اعلیٰ کی طرح نہیں جو ٹھوکریں کھاتا پھرے اور ٹکریں مارتا ہو بلکہ اس کے دل پر تو خدا تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے اور ہر قدم پر وہی اس کا رہنما اور متکفل بن جاتا ہے۔ شیطان کی شرارت کی تاریکی اس کے نزدیک نہیں آسکتی بلکہ وہ ظلمت جل کر بھسم ہو جاتی ہے پھر سب کچھ نظر آتا ہے ۔ وہ جو کچھ بیان کرتا ہے وہ حقائق و معارف ہوتے ہیں۔ وہ جو احادیث کی تاویل کرتا ہے وہ صحیح ہوتی ہے کیونکہ وہ براہ راست بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیتا ہے اور اس کی اپنی روایت ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں کو