ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 316

تیرہ (۱۳) سو برس کے وسائط سے کہنا پڑتا ہے جو کچھ کہنا پڑتا ہے۔پھر ان دونوں کو باہم کیا نسبت؟ اس کا سارا ذخیرہ پاک معارف اور نور ہوتے ہیں لیکن جو اس سے عداوت کرتا ہے وہ اس کی ہر بات کی تکذیب کرتا ہے اور گویا وہ یہ شرط کر لیتا ہے کہ ہر نکتہ معرفت کا انکار کرے گا اور اس طرح پر وہ ہر بات کا انکار کرتا رہتا ہےاور اس کی ایمانی عرفانی دیوار کی اینٹیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں۔جب ایک شخص صراطِ مستقیم بتلا رہا ہے اور معارف اور حقائق کھول کھول کر بیان کر رہا ہے اور دوسرا اس کی تکذیب کرتا رہے گا۔اس مقابلہ میں انجام کار نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی کہ وہ قرآن شریف کے عقائد کے مجموعہ کی تکذیب کرتا ہے۔کرتا رہے گا اور اسی لیے وہ خدا تعالیٰ کا بھی منکر ہوجاتا ہے اور سلبِ ایمان کا باعث بنتا ہے۔غرض اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اولیاء اللہ کے انکار سے سلب ایمان ہو جاتا ہے۔اس واسطے ہمیشہ اولیاء اللہ کے انکار سے بچنا چاہیے۔یہودیوں پر جو آفت آئی اور وہ مغضوب ہوئے۔اس کی بڑی بھاری وجہ یہی تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلین سے انکار کرتے رہے اور ہمیشہ ان کی مخالفت اور ایذا رسانی میں حصہ لیتے رہے۔اس کا انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔آنحضرتؐ کے خاتم النّبیّین ہونے کا ایک اور پہلو پھر میں اپنے پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیّین ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس امت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَ نْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْـرَآءِیْلَ بھی حدیث میں آیا ہے اگرچہ محدّثین کو اس پر جرح ہو مگر ہمارا نور قلب اس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بُعد چون و چرا کے اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے۔اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں جیسے ہیں۔لیکن علماء کے لفظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔یہ لوگ الفاظ پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کی تہہ تک نہیں پہنچتے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قرآن شریف کی