ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 311

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد اول ہے کہ ہم ان کمالات کو پالیں اور یہ بات بھی بھولنی نہیں چاہیے کہ جیسے وہ عظیم الشان کمالات ہم کو دینا چاہتا ہے اُسی کے موافق اس نے ہمیں قومی بھی عطا کیے ہیں کیونکہ اگر اس کے موافق قومی نہ دیئے جاتے تو پھر ہم ان کمالات کو کسی صورت اور حالت میں پاہی نہیں سکتے تھے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص ایک گروہ کی دعوت کرے تو ضرور ہے کہ وہ اُس گروہ کے موافق کھانا طیار کرے اور اُسی کے موافق ایک مکان ہو۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ دعوت تو ایک ہزار آدمی کی کر دے اور اُن کے بٹھانے کے واسطے ایک چھوٹی سے کٹیا بنا دے۔ نہیں ۔ بلکہ وہ اُس تعداد کا پورا لحاظ رکھے گا۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی کتاب بھی ایک دعوت اور ضیافت ہے جس کے لئے کل دنیا کو بلایا گیا ہے۔ اس دعوت کے لئے خدا تعالیٰ نے جو مکان طیار کیا ہے وہ قومی ہیں جو اُن لوگوں کو دیئے گئے ہیں۔ قومی کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا ۔ اب اگر بیل، کتے یا کسی اور جانور کے سامنے قرآن کریم کی تعلیمات کو پیش کریں وہ نہیں سمجھ سکتے اس لیے کہ اُن میں وہ قومی نہیں ہیں جو قرآن کریم کی تعلیمات کو برداشت کر سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ قومی دیئے ہیں اور ہم اُن سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ وہ نبی دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام خاتم النبیین ہیں اللہ تعالی نے وہ خاتم المومنین، خاتم العارفین اور خاتم النبیین ہے اور اسی طرح وہ کتاب اُس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپؐ پر نبوت ختم ہوگئی تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے ۔ یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیئے گئے اور اس طرح پر آپ طبعاً خاتم النبیین ٹھیرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات ، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں ، وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھیرا۔